• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, جون 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

کچی آبادی میں موبائل سمز بیچنے والا بھارتی نوجوان رتیش اگروال ارب پتی کیسے بنا؟

by sohail
اپریل 13, 2020
in کالم
0
کچی آبادی میں موبائل سمز بیچنے والا بھارتی نوجوان رتیش اگروال ارب پتی کیسے بنا؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بھارت کی ایک دور دراز ریاست کی کچی آبادی میں 13 سال کی عمر میں موبائل سم فروخت کرنے والے رتیش کمار کی کہانی حیرت انگیز بھی ہے اور حوصلہ بڑھانے والی بھی، غربت میں پستا یہ نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے 10 ارب ڈآلر کے اثاثوں پر مشتمل کمپنی کا مالک بن کر دنیا کی ممتاز شخصیات میں شامل ہو گیا۔

کورونا وباء کے دوران امریکہ میں او یو ہوٹلز کو میڈیکل اسٹاف کی مفت رہائش و دیگر ضروریات کے لیے مختص کرنے والے رتیش اگروال کی اس کوشش پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔
19 سال کی عمر میں اگروال نے بھارت کے مختلف شہروں دہلی، گووا، کیرالہ اور راجستھان سمیت مختلف شہروں کا سفر کیا، اس 3 ماہ کے سفر کے دوران اسے مختلف ہوٹلز میں ٹھہرنے کے تجربات حاصل ہوئے۔ وہ گند سے اٹے ہوٹلز میں رہے جس کی پھٹی بیڈ شیٹس، کمروں میں کاکروچ، چھت سے لٹکی چھپکلیاں، دیواروں سے اکھڑے ہوئے پیلے پینٹس، مناسب طریقے سے بند نہ ہونیوالے دروازے، واش کی ٹونٹیوں سے گرتا پانی، بالٹی میں پانی بھر کر نہانے جیسے تجربات کا بھی اسے سامنا کرنا پڑا۔
اگروال کہتے ہیں اس سفر کے دوران میں نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا، میں نے محسوس کیا کہ ہوٹل انڈسٹری میں بہتر معیار اپنا کر اس کاروبار میں بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اسی آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس نے 2013 میں گڑ گاؤں کے اندر پہلا اویو ہوٹل کھولا جس میں اعلیٰ معیار کے کمبل، موٹے میٹرس، فلیٹ سکرین ٹی وی اور گرم پانی کی سہولیات مہیا کیں۔ پہلے مہینے اس کے ہوٹل میں رہائش رکھنے والوں کا رش 18 فیصد سے 90 فیصد تک جا پہنچا۔

آج اگروال 26 سال کے ہیں اور ان کی کمپنی 10 ارب ڈالر کی مالیت رکھتی ہے جس میں پچھلے دو سال کے دوران سافٹ بینک گروپ کارپوریشن نے 1.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ دوسرے بڑے ہوٹل گروپس کے برعکس اویو ہوٹل اپنی پراپرٹی نہیں رکھتا ،یہ مالکان کو سرمایہ اور ہوٹل چلانے کی تربیت فراہم کرتے ہیں جو وہ اس گروپ کا نام استعمال کرنے کے عوض اگروال کوآمدن کا 20فیصد دیتے ہیں۔
یہ گروپ پروپرائیٹری ڈیٹا مائننگ ٹیکنالوجی مہیا کرتا ہے جو ہوٹلز کی آمدن میں اضافہ کیلئے مدد دیتا ہے ۔ اس وقت اویو دنیا کے چار براعظموں میں 44ہزار ہوٹلز کے 12لاکھ کمروں کے ساتھ دنیا کا دوسرا بڑا گروپ ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اس سال یہ گروپ میریٹ ہوٹلز کی چین کو پیچھے چھوڑ جائے گا ۔

رتیش اگروال نے اتنی جلد ی ترقی کیسے کی؟

اگر وال نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایک سال قبل ہم صرف انڈیا تک محدود تھے اور چین میں اپنا آپریشن شروع کررہے تھے لیکن اب ان کے گروپ میں ہرروز 70سے 80ہوٹلز شامل ہورہے ہیں ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اگلے تیس دن میں 1لاکھ نئے کمرے کھولنے جارہے ہیں ،اب امریکہ کے 35شہروں میں اویو کی 200کے قریب جائیدادیں ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اصل کاروبار کا آغاز بھارت میں کیا ، لیکن ہم نے ایسی پراڈکٹ بنائی جسے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی دے سکتے ہیں ،ہم دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ جلدی اور اچھے طریقے سے انٹریئر ڈیزائن کرتے ہیں ۔

ہم ہاؤس کیپنگ ایپ جیسے اقدامات کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں کام کرتے ہیں جو جلدی سے کمرے کی صفائی کرتی ہے اور کسٹمر کے ہم پر اعتماد کو بڑھا دیتی ہے ۔ زیادہ منافع کمروں کی ڈیمانڈ پرمنحصر کرتا ہے ۔ تین سال قبل ہم 60فیصد کے حساب سے ترقی کررہے تھے لیکن اس سال اس میں 300فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے درجے کے شہروں میں اب اویو ہوٹل کے سائن آپ نظرانداز نہیں کرسکتے ۔

جب آپ جکارتہ ، لندن یا اس سے آگے ڈیلاس،ہیوسٹن اور لاس ویگاس میں گاڑی ڈرائیو کررہے ہوں تو آپ کو اویو ہوٹل کے نشان اکثر جگہوں پر نظر آتے ہیں ۔

اگروال کا بزنس ماڈل کیا ہے؟

رتیش اگر وال اپنے بزنس ماڈل کی کامیابی پر خوش ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں شامل 99فیصد مالکان کاروبار کے آغاز سے ان کے ساتھ جڑے رہتے ہیں ۔ انڈیا میں ہم کم و بیش 5سو ڈالر ایک روم کی تزئین و آرائش پر خرچ کرتے ہیں ، چین کے چھوٹے شہروں میں 5سو، بڑے شہروں میں 750جبکہ امریکہ میں ایک روم کی تزئین و آرائش پر 1ہزار ڈالر خرچ آتا ہے ۔ یہ خرچ ہم دنیا بھر میں اوسطاً 6 ماہ کے اندر پورا کر لیتے ہیں ۔ ہم اندرونی ڈیزائن سے قبل یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کم خرچ کے ساتھ کس طرح کا بہترین ڈیزائن ہ میں اچھا منافع دے سکے گا ۔ مثال کے طور پر مارلن منرو کے پورٹریٹس نے کمروں کی آمدن میں اوسطاً10سے 11فیصد اضافہ کیا ہے ۔ صارفین اس طرح کے ہوٹلوں کی بوتیک کی طرح درجہ بندی کرتے ہیں ۔
جب ہم نے محسوس کیا کہ ٹیکساس کے ایک ہوٹل کے کمرے کی دیوار پر مارلن منرو کے پورٹریٹ کی وجہ سے آمدن میں 25فیصد اضافہ ہوا ہے تو ہم نے یہ ماڈل دوسری جگہوں پر بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ بھارت میں ہمارے 50فیصد ہوٹلز پوری خدما ت پیش کررہے ہیں مثلاً اُن میں روم سروس کی سہولت بھی دستیاب ہے ۔

آپ اندازہ کریں کہ انڈیا میں ایسی خدمات والے ہوٹل 25ڈالر فی روم ایک رات کے لیے دستیاب ہیں ،انڈیا سے باہر ہمارے پاس اس قیمت پر فل سروس ہوٹل دستیاب نہیں ۔ ہمارے ہاں جب کوئی مہمان مکمل سروس والے ہوٹل میں جاتا ہے تو لابی کا عملہ جانتا ہے کہ مہمان نے پچھلے دورے پر کمرے میں پیزا منگوایا تھا اور فوری طور پر پوچھے گا کہ آیا مہمان پیزا چاہتا ہے ۔ اگر ہوٹل کا استقبالیہ سٹاف اضافی خدمات فروخت کرتا ہے تو اس پر انہیں مراعات دی جاتی ہیں ۔ ہمارے اویو ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ملازمین کی اس حوالے سے تربیت کرتے ہیں ، ہم نے ہاؤس کیپنگ ، فرنٹ ڈیسک ،دیکھ بھال و دیگر امور کے لیے اب تک 3لاکھ ملازمتیں پیدا کی ہیں ۔

رتیش اگروال بزنس کی طرف کیسے آئے؟

رتیش اگروال اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ بارے بتاتے ہیں کہ وہ بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ کے علاقہ ریاگاڈا میں پلے بڑھے ، اس علاقے کے بارے میں شاید چند لوگ ہی جانتے ہوں گے، یہاں پر 70فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے ۔ جب میں 13سال کا تھا تو اس آبادی میں موبائل سمیں فروخت کرنی شروع کیں کیونکہ بڑی کمپنیاں اتنے چھوٹے علاقے میں یہ کام نہیں کرتی تھیں ۔
میرے والد پرچون کی دکان چلاتے تھے ، ہم چار بھائی ہیں ، میں سب سے چھوٹا ہوں ۔ میرا ایک بھائی انجینئر جبکہ دو نے بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا ہے ۔ مجھے کالج سے نکال دیا گیا ۔ میرے والدین کا خیال تھا کہ ان کے تین بیٹے لائق ہیں جبکہ مجھے کالی بھیڑ سمجھا جاتا ، میرے والدین میرے بارے میں کہتے کہ ’’ اسے گھاس کاٹنے والا کام ملے گا ‘‘ ۔

انتہائی مصروف رہنے والا اگروال ذاتی زندگی کیلئے وقت کیسے نکالتا ہے؟

اگر وال کہتے ہیں کہ پورا مہینہ ان کا انڈیا ، چین اور امریکہ کے سفر میں گزر جاتا ہے ۔ اویو گروپ کے علاوہ اگر کوئی چیز ان کے ساتھ مستقل ہے تو وہ ان کا کتا لیزا ہے ۔ لیزا کے لیے وہ خریدار ی بھی کرتے ہیں ۔ اگروال کہتے ہیں کہ میرے والدین کواب بھی معلوم نہیں کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ انہیں اپنے گھر کی بالکونی سے اویوکے دو ہوٹلز نظر آتے ہیں ، اس لیے وہ میرے بارے اب زیادہ فکر مند نہیں ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میرے پاس اب معقول ملازمت ہے کیونکہ اب وہ جب مجھے جیب کا خرچ بھیجتے ہیں تو میں ان سے زیادہ کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔

sohail

sohail

Next Post
کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں سیاہ فام زیادہ کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟

کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں سیاہ فام زیادہ کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟

کورونا وائرس: گاہک نہ ملنے پر امریکی کسان اربوں ڈالرز کی اشیاء ضائع کرنے لگے

کورونا وائرس: گاہک نہ ملنے پر امریکی کسان اربوں ڈالرز کی اشیاء ضائع کرنے لگے

دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا

دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا

چیف جسٹس کے سٹاف اہلکار میں کورونا کی تصدیق، مقدمات ملتوی

ٹائیگر فورس کی تشکیل کے خلاف دی گئی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In