اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی اعلان کردہ ٹائیگر فورس کی تشکیل کے خلاف دی گئی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان غیرمعمولی حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر اعتماد کرنا ضروری ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے موجودہ ایمرجنسی کی صورتحال میں مناسب اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کوئی ایسی بات ریکارڈ پر نہیں لا سکا جس سے یہ کہا جا سکے کہ حکومت نے ٹھیک طرح سے کام نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس قسم کے حالات میں قومی اتحاد اور ریاست پر اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہ عدالت اس پٹیشن کو خارج کرتی ہے تاکہ ایگزیکٹو اتھارٹی کی جانب سے کی گئی کوششیں متاثر نہ ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست روات کی یونین کونسل کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
گزشتہ ماہ وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کی صورت میں عوام تک اشیائے ضروریہ پہنچانے کے لیے ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا تھا جو نوجوان رضاکاروں پر مشتمل ہو گی۔
ٹائیگر فورس میں اب تک اس میں 9 لاکھ 20 ہزار رضاکار رجسٹر ہوچکے ہیں، ان میں 6 لاکھ 6 ہزار کا تعلق پنجاب سے، ایک لاکھ 40 ہزار کا سندھ سے، ایک لاکھ 30 ہزار کا خیبرپختونخوا سے، 13 ہزار کا بلوچستان سے، 13 ہزار کا اسلام آباد سے، 10 ہزار کا آزاد کشمیر سے اور ساڑھے 5 ہزار کا گلگت بلتستان سے ہے۔
