وزیراعظم عمران خان کے دوست اور ابراج گروپ کے بانی عار ف نقوی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، مختلف اسکینڈلز کی زد میں رہنے والے عارف نقوی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک نجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں انکا صحت یابی کی طرف سفرتسلی بخش ہے۔
میڈیا رپورٹس میں عارف نقوی کے حوالہ سے یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ روز سے نجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں، پاکستان ٹوڈے کی خبر کے مطابق عارف نقوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لوگ کورونا وائرس کو ہلکا مت لیں۔
عارف نقوی ’کے الیکٹرک‘ کے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ اور ماضی میں فراڈ الزامات پر گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے ان پر وزیراعظم عمران خان سے تعلق استعمال کرکے لندن سے فرار ہوجانے کے الزامات بھی عائد کئے گئے۔
ہیلتھ فنڈز میں فراڈ الزامات
عارف نقوی کے ابراج گروپ کو اس وقت معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑا جب اس میں سرمایہ کاری کرنیوالے افراد کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے کہ گروپ کی جانب سے ان کے فنڈز کا درست استعمال نہیں کیا جا رہا، اس وقت ابراج گروپ کے زیرانتظام دنیا کے کئی ممالک میں 13ارب ڈالرز کے زائد کے اثاثے تھے۔
امریکی حکام کی جانب سے عارف نقوی پر سرمایہ کاروں سے فراڈ کرکے بھاری پیسے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا، ان پر سرمایہ کاروں کو انکے فنڈز کے استعمال سے متعلق گمراہ کن معلومات دینے کے الزامات بھی لگے تھے، اس کیس میں انہیں گزشتہ برس اپریل میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کیس میں پراسیکیوٹرز کی جانب سے عارف نقوی پر کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری غلط استعمال کرنے کا الزام لگا تھا۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے عارف نقوی پر ہیلتھ کیئر فنڈ کی رقم میں غبن کے الزامات لگائے تھے، کمیشن کا کہنا تھا کہ عارف نقوی کی جانب سے تین برس میں امریکی سرمایہ کاروں سے ہیلتھ کیئر فنڈز کے نام پر 10 کروڑ ڈالرز سے زائد جمع کئے گئے مگر اس بھاری رقم کو ہیلتھ کیئر کی بجائے دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔
عارف نقوی کے مبینہ فراڈ کا نشانہ بننے والوں میں دنیا کی معروف ’بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا تعلق اور امریکیوں کا ڈر
ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کا وزیراعظم عمران خان سے پرانا تعلق ہے، گزشتہ برس عارف نقوی کو لندن میں سرمایہ داروں سے دھوکہ دہی کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا تو انکی جانب سے پولیس کو رابطہ کیلئے وزیراعظم عمران خان کا نمبر دیا گیا تھا۔
لندن کی عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے عارف نقوی کو ضمانت نہ دیے جانے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عارف نقوی کو ضمانت ملی تو وہ وزیراعظم عمران خان کا تعلق استعمال کرکے نجی طیارہ منگوا لیں گے اور لند ن سے فرار ہوجائیں گے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق عارف نقوی کو اس کیس میں 2 کروڑ ڈالرز ضمانت کے عوض مشروط رہائی ملی تھی۔
عارف نقوی کے وکیل ہوگو کیتھ نے لندن کی عدالت میں کہا تھا کہ عارف نقوی گزشتہ بیس برس سے وزیراعظم عمران خان کے دوست ہیں اور محض اس وجہ سے انہیں ضمانت دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اس کیس میں پراسیکیوٹرز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ عارف نقوی کی جانب سے پولیس کو دیا گیا فون نمبر وزیراعظم کی بجائے صدر کا ہے۔
اسی طرح ریحام خان کی جانب سے اپنی کتاب میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عارف نقوی وہ شخص ہے جس نے 2013ء کے عام انتخابات میں عمران خان کی الیکشن مہم کے 66 فیصد اخراجات اٹھائے تھے، انہوں نے لکھا ہے کہ یہ بات انہیں عمران خان نے خود بتائی تھی۔
