بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں 18 مارچ کو کورونا وباء کے پہلے کیس کی تصدیق کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں سرجری کے پروفیسر اقبال سلیم نے محسوس کیا کہ آنیوالے دن ان کیلئے مشکل ہوسکتے ہیں اس حوالے سے انہوں نے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے برطانیہ میں ایک سرجن دوست کو معلوم کرنے کے لیے واٹس ایپ پیغام بھیجا کہ ان کے ملک میں اس وباء پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
ان کے دوست نے انہیں ایک تفصیلی فائل وٹس ایپ کی کہ برطانوی اسپتالوں میں کورونا وباء کے لیے کیا پروٹوکول رائج کیے گئے ہیں، پروفیسر سلیم کے مطابق اُس کے لیے وہ فائل ڈاؤن لوڈ کرنا کسی بھی بڑے ٹاسک سے کم نہ تھا۔
مقبوضہ کشمیر گزشتہ 8 ماہ کے دوران تیز انٹرنیٹ سروس سے محروم ہے، حتیٰ کہ تھری جی بھی اس خطے میں میسر نہیں ہے ۔
متعدد ناکام کوششوں کے بعد اقبال سلیم نے اپنے ٹویٹر پر سخت مایوسی کے لہجے میں لکھا کہ کورونا وباء کے دوران انتہائی نگہداشت کے پروٹوکول کے حوالے سے بھیجی گئی برطانیہ سے ایک ڈاکٹر دوست کی 20 ایم بی کی فائل ایک گھنٹے میں بھی ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکی۔
بھارت نے اگست 2019ء میں 80 لاکھ آبادی کے حامل کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر تے ہوئے خطے میں لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔
فارن پالیسی میگزین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران اس خطے میں تھری، فور جی انٹرنیٹ کی سہولیات ختم کر دی گئیں تھی جنہیں 25 جنوری کو جزوی طور پر بحال کرتے ہوئے 2 جی سروس فراہم کی گئی لیکن ابھی تک دہلی سرکار فور جی انٹرنیٹ کی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہی ۔
تیز انٹرنیٹ کی عدم فراہمی کے باعث لوگ موبائل بینکنگ ایپس، بلوں کی ادائیگی اور مختلف سروسز کے استعمال سے محروم ہیں اور یہی بات انہیں گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔
کورونا وباء کے دوران مختلف معلومات اور مشکل ترین حالات کے باوجود بھارتی حکومت وادی میں تھری جی انٹر نیٹ کی بحالی سے مسلسل انکاری ہے، انڈیا کے دوسرے شہروں کی طرح کشمیر بھی اس وقت 21 روزہ لاک ڈاؤن میں ہے۔
تیز انٹرنیٹ کی محرومی سے اس وقت آئسولیشن کا شکار خطے کے ہیلتھ ورکرز زیادہ مسائل کا سامنا کررہے ہیں، حالیہ اعدادو شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں کورونا کیسز 4 اموات کے ساتھ 224 رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ بھارت میں 242 اموات کے ساتھ کورونا کیسز کی تعداد بڑھ کر 7 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
سرینگر کے نوجوان ڈاکٹر عادل اشرف کا کہنا ہے کہ حکومت کے انٹرنیٹ فراہمی کے انکار سے اس کے ساتھیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، وہ سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی باقاعدگی سے اپلوڈ کی گئی گائیڈ لائنز اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کرد ہ ویڈیو زکو نہیں دیکھ پا رہے۔
عادل اشرف کہتے ہیں کہ سخت پابندی کے باعث وہ اپنے موبائل پر صحت سے متعلق معلومات ڈاؤن لوڈ یا ساتھیوں سے شیئر نہیں کر پا رہے اور نہ ہی عوامی آگاہی کے لیے کوئی معلومات سوشل میڈیا پرشیئر کی جاسکتی ہیں جو نوجوانوں کیلئے سخت مایوسی کا باعث بن رہی ہیں۔
بڑے اسپتالوں کے بند ہونے کی وجہ سے گزشتہ ماہ کشمیر کی ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے مریضوں کے علاج کے لیے ٹیلی میڈیسن کا قدم اٹھایا ،متعدد اسپتالوں نے موبائل فونز پر ڈاکٹروں کی دستیابی کے شیڈول دیے ،لیکن ٹیلی میڈیسن تیز انٹر نیٹ کے بغیر کام نہیں کرپارہی ۔ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے سربراہ سہیل نائیک کہتے ہیں کہ ’ٹیلی میڈیسن کا مطلب صرف مریضوں کے ساتھ فون پر بات کرنا نہیں ، ایک ڈاکٹر کو مریضوں کی رپورٹس ،آن لائن طریقہ سے مریضوں کو اسکین اور ویڈیو کال کے ذریعے ان سے بات چیت کرنی ہوتی ہے ،لیکن بدقسمتی سے اس مشکل وقت میں بھی یہ ہم نہیں کرپارہے ‘‘ ۔
کشمیر کے ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ذہنی بیماری کے شکار افراد پر موجودہ حالات سختی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹرز ودآءوٹ بارڈرز کی 2015ء کی تحقیق کے مطابق کشمیر میں 30سالہ تنازعہ کے بعد قریباً 1.8ملین جوانوں (جو نوجوان کشمیری آباد ی کا 45 فیصد ہیں) میں ذہنی بیماریوں کی علامات پائی جاتی ہیں ۔
سرینگر مینٹل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کشمیر کی کل آبادی کا 11.3فیصد ذہنی بیماریوں کا شکار ہے ۔ ایک ماہر نفسیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کشمیر میں سخت کرفیو کے حالات میں کچھ ذہنی بیماری میں مبتلاء مریض جنہیں ویڈیو کانفرنس کال کی سہولت میسر نہیں موت کے منہ میں جاسکتے ہیں ۔
کورونا وباء کی وجہ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاءون کے دوران مقبوضہ وادی میں بعض جگہوں پر لوگوں کو گھروں میں رہنے کے لیے پولیس کے طاقت کے استعمال کی بھی رپورٹس ملی ہیں ،مختلف جگہوں پر پولیس نے زبردستی ضروری اشیاء کے سٹورز بھی بند کر ا دیے ہیں ۔
