اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کی مدت میں دو ہفتے مزید توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ہمارے خدشات کے مقابلے میں 30 فیصد کم پھیلا ہے لیکن اب بھی اس کا خطرہ موجود ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تمام تعلیمی ادارے، سینما گھر اور عوامی مقامات بند رہیں گے کیونکہ اگر کورونا وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تو ہمارا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکےگا۔
نریندر مودی کا لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان
وزیراعظم نے کہا کہ اٹلی اور اسپین میں روز سیکڑوں لوگ مر رہے ہیں، اللہ کا شکر ہے پاکستان میں ہلاکتیں توقع سے کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا کے باعث لاک ڈاوَن کیے گئے، ہمیں دیہاڑی دار مزدوروں اور دکانداروں کی مشکلات کا احساس ہے۔
وزیراعظم نے تعمیرات کی صنعت کو بھی کھولنے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے لوگوں کو زیادہ روزگار ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعمیرات کی صنعت کے لیے ایک آرڈیننس لا رہے ہیں جس کے تحت اس شعبے کو بہت بڑا پیکج دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ صوبے اگر لاک ڈاوَن نہیں کھولنا چاہتے تو وفاق ان پر زبردستی نہیں کرے گا، دیہات کے اندر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں اگر لوگوں نے پیسہ بنانے کی کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف ایک آرڈیننس لے کر آ رہے ہیں جس میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
انہوں نے رمضان المبارک میں علمائے کرام سے مشاورت کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ان کے مشورے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھی ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا، انہوں نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران یہ اعلان کیا۔
انہوں نے اس فیصلے کے باعث شہریوں کی تکلیف اور معیشت کو ہونے والے نقصانات کا اعتراف کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ کورونا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ اقدامات لینے بہت ضروری تھے۔
اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھی ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا، انہوں نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران یہ اعلان کیا۔
انہوں نے اس فیصلے کے باعث شہریوں کی تکلیف اور معیشت کو ہونے والے نقصانات کا اعتراف کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ کورونا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ اقدامات لینے بہت ضروری تھے۔
