لاک ڈاؤن کے دوران محل نما گھروں میں رہنے والے مشہور افراد کے شکووں پر برطانوی اداکار اور مشہور کامیڈین رِکی جرویس غصے میں آ گئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ شہرت یافتہ لوگ الگ تھلگ ہوجانے پر رونا دھونا بند کریں اور برطانیہ کے ’نیشنل ہیلتھ کئیر سسٹم‘ کے اسٹاف کو دیکھیں جواپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر لوگوں کی زندگیاں بچا رہا ہے۔
76 دن کا لاک ڈاؤن ختم ہونے پر چین کے شہر ووہان میں جشن کا سماں
قرنطینہ اور تنہائی، امریکہ میں کتوں کی طلب بڑھ گئی
نفیس جذبوں کی داستان: کورونا کا مریض بیٹی سے جھوٹ بولتا رہا
مشہور اداکار رِکی جرویس کا کہنا ہے کہ این ایچ اسٹاف کورونا وائرس وبا کے دوران چودہ چودہ گھنٹے کام کر کے بھی کوئی شکوہ نہیں کر رہا جب کہ حویلی نما بڑے گھر جن میں سوئمنگ پول جیسی سہولیات بھی ہیں، میں بیٹھ کر چند لوگ الگ تھلگ ہوجانے پر نوحہ کناں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسی باتیں نہیں سننا چاہتا۔
ڈیلی میل کے مطابق گزشتہ ماہ 27 سالہ برطانوی گلوکار سام سمتھ ایک کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈز مالیت کے محل نما گھر میں لاک ڈاؤن کے دوران الگ تھلگ ہونے پر شکوے کرتے ہوئے رو پڑے تھے، انہوں نے انسٹاگرام پر مہنگے گھر میں اپنے الگ تھلگ ہوجانے کو دردناک ظاہر کیا تھا۔
سام سمتھ کے شکوے شکایتوں کے بعد برطانیہ کی دیگر مشہور شخصیات نے بھی اس عمل میں حصہ لیا۔
ڈیلی میل کے مطابق ٹی وی شو کی میزبان ایلن ڈی جینرس نے اپنے کروڑوں مالیت کے گھر میں خود کو قرنطینہ ہونے کو جیل میں رہنے سے مشابہت دی۔
گلوگار پیٹر آندرے نے شکایت کی کہ وہ قرنطینہ کے دوران بور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر کہا کہ وہ اپنے گھر کی 6 لاکھ سے زیادہ بار صفائی بھی کر چکے ہیں۔
مشہور ٹی وی شیف گورڈن رمزے نے 40 لاکھ پاؤنڈز مالیت کے مہنگے اور بڑے گھر میں بیٹھ کر لاک ڈاؤن کے دوران زندگی کو جیتے ڈراؤنے خواب سے تشبیہ دی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہر دن ایک جیسا ہوتا ہے، یہ سب آخر کب ختم ہو گا؟

جو لوگ روزانہ لاکھوں لوگوں کے مجمع میں زندگی گزارتے ہوں وہ کتنے ہی قیمتی محل میں قید تنہائی نہیں کاٹ سکتے،
انہی لوگوں سے عبرت پکڑیں کہ حقیقی خوشیاں بڑے اور مہنگے گھروں، زرق برق لباس، قیمتی گاڑیوں یا سونے،ہیرے جوہرات کے ذخیرے اکٹھے کرنے سے نہیں ملتیں بلکہ لوگوں کے درمیان رہنے سے ملتی ہیں۔
کاش ہمارے صاحبِ اختیار لوگ یہ بات سمجھ سکیں