پی ٹی آئی حکومت نے کافی سارے معاونین خصوصی اور ایڈوائزرز تعینات کر رکھے ہیں۔ جس طرح اسمبلیوں کا حصہ بننے والے تمام ارکان اسمبلی الیکشن کمیشن میں اپنے گوشوارے جمع کراتے ہیں اور ہر سال الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کو شائع بھی کرتا ہے اسی طرح معاونین خصوصی اور ایڈوائزرز کے بھی اثاثہ جات کو منظر عام پر آنا چاہئے۔
اسی سلسلے میں اینکر ارشد شریف نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کو سوالات بھیجے تھے اور خطوط بھی لکھے کہ معاونین خصوصی اور ایڈوائزرز کابینہ اجلاسوں کا حصہ ہوتے ہیں، اختیارات کا استعمال کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے منتخب نمائندوں کی طرح ان کے بھی اثاثہ جات کو شائع کیا جائے۔
ارشد شریف نے اپنے پروگرام پاور پلے میں بتایا کہ 2019 کے آخری دنوں میں مختلف اداروں کوخطوط لکھے تھے اور سوالات پوچھے تھے کہ منتخب نمائندے پاکستان اور بیرون ملک میں اپنی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہیں لیکن پی ٹی آئی حکومت میں کچھ ایڈوائزرز اور کچھ معاون خصوصی ایسے بھی ہیں جن کے اثاثہ جات اور شہریت کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ کے بہت واضح احکامات ہیں کہ جو کام آپ براہ راست نہیں کر سکتے وہ کام آپ ان ڈائریکٹ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔
ارشد شریف نے سوال اٹھایا تھا کہ جب وفاقی کابینہ کے اثاثہ جات کی تفصیلات منظر عام پر ہیں تو اسپیشل اسسٹنٹ اور ایڈوائزرز اپنی شہریت، جائیدادوں اور کاروبار کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے کیوں کترا رہے ہیں۔
ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ 11اکتوبر2019ء کو پروگرام ’پاور پلے‘ نے مشیران وزیر اعظم اور معاون خصوصی کے اثاثہ جات و دیگر کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ایک خط لکھا جس کی کاپی وزیر اعظم سیکٹریٹ، کابینہ سیکٹریٹ، ایف بی آر، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات کو بھیجی گئی۔
درخواست کنندہ نے معلومات تک رسائی کے حق کے استعمال کو مدنظر رکھ کر خط لکھا جس کی ضمانت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے1973 کے آئین کا آرٹیکل 19(A) دیتا ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ یہ پبلک آفس ہولڈرز انتہائی حساس معلومات پر وزیر اعظم پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں اور فیصلہ سازی میں مدد کرتے ہیں اور ان فیصلوں کا اثر پاکستان میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
ملک امین اسلم، عبدالرزاق داؤد، محمد شہزاد ارباب، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مرزا شہزاد اکبر، سید ذوالفقار عباس بخاری، شہزاد سید قاسم، محمد عثمان ڈار، ندیم افضل چن، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ندیم بابرمعاون خصوصی برائے پیٹرولیم اور ڈاکٹر شمشاد اختر کے حوالے سے تفصیلات مانگی گئی تھیں۔
خط میں درخواست کی گئی تھی کہ ان معاون خصوصی اور مشیروں کے ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ معاون خصوصی اور مشیروں کے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں شیئرز کی معلومات فراہم کی جائیں۔ معاونین خصوصی اور مشیروں کی جانب سے گزشتہ تین برسوں میں جمع کرائے گئے انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
خط میں معاونین خصوصی اور مشیروں کی شہریت کی تفصیلات مانگی گئیں۔ معلومات تک رسائی کے اہم ترین فوائد یہ ہیں کہ اس سے حکومت وقت کے احتساب میں آسانی ہوتی ہے، شہری عوامی پالیسی پر زیادہ موثر انداز پر بحث کرتے ہیں اور عام عوام پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں شفافیت آتی ہے۔
خط میں لکھا گیا کہ مشیران کو صدر پاکستان نے وزیر اعظم پاکستان کی سفارش پرآرٹیکل 93 کے مطابق تعینات کیا اور یہ مشیران کابینہ کا اہم حصہ ہیں جو کہ کامرس، فنانس، موسمی تبدیلی، انڈسٹریل اصلاحات اور سرمایہ کاری جیسے اہم امور چلا رہے ہیں۔
خط میں واضح کیا گیا کہ معاونین خصوصی برائے وزیر اعظم کو وزیر اعظم پاکستان نے 1973 کے رولز آف بزنس کے رول 4(6) کے مطابق تعینات کیا گیا اور یہ معاونین بھی کابینہ کا حصہ ہیں۔ یہ معاونین وزیر اعظم پاکستان کو سماجی تحفظ، غربت کے خاتمے، نیشنل ہیلتھ ریگولیشن، آبی وسائل، توانائی و پیٹرولیم کے امور پر مدد فراہم کرتے ہیں۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مشیران عوامی عہدہ رکھتے ہیں اور کابینہ کا حصہ ہوتے ہوئے اہم عوامی معاملات کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کیمبرج ڈکشنری کے مطابق مشیر وہ ہے جو کسی معاملے پر مشورہ دے۔ اس کایہ مطلب ہے کہ مشیران کے پاس خاص صلاحتیں اور تجربہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں لہذا شفافیت اور احتساب کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے ان مشیران کے ذاتی مفادات اور اہم معلومات سب کے سامنے ہونی چاہیے۔
ایف بی آر کی جانب سے لکھے گئے جواب میں بتایا گیا کہ معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2017کی روشنی میں درخواست کو دیکھا گیا اور موقف اختیار کیا کہ مطلوبہ معلومات انک ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن216کے سب سیکشن(2)کے مطابق نہیں دی جا سکتی ہیں لہذا درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے مختصراً اثاثہ جات کی تفصیل کے لیے بھیجی گئی درخواست کو کابینہ ڈویژن کو بھیج دیا جبکہ کابینہ ڈویژن نے اپنے جواب میں لکھا کہ کابینہ ڈویژن وزیر اعظم پاکستان کی منظوری کے بعد مشیران و معاونین خصوصی کے نوٹیفیکشن جاری کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ اور مراعات دیکھتی ہے مگر ایسے کوئی دستاویزات اپنے پاس نہیں رکھتی جس کا ذکر بھیجے گئے خط میں کیا گیا ہے۔
ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں کہا کہ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں اور حکومت کی شفافیت کا ان سوالات سے بہت گہرا تعلق ہے۔ پاور پلے میں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ بہتر ہوتا ان میں کوئی آ کر ان سوالوں کا جواب دیتا۔ مجھے علم نہیں ہے کہ ان میں کتنے لوگوں نے اپنے اثاثہ جات ظاہر کیے ہیں وہ مکمل لا علم ہیں۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ مشیران اور معاونین خصوصی نے اپنے اثاثہ جات ظاہر کیے ہوں گے۔
پاور پلے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے سوال کیا کہ حکومتی مشیران اور وزراء مملکت پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے؟
ارشد شریف نے کہا کہ یہی سوال پارلیمنٹ میں بھی پوچھا گیا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی طرف سے سوال کیا گیا کہ ان مشیران وزراء پر اتنی رقم کرچ کیوں کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ مشیران اور معاونین، کابینہ پر حاوی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیر اعظم کی کابینہ غیر موثر ہو چکی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ معذرت کے ساتھ، وزیر اعظم عمران خان نے خود کوالگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مشیروں اور معاونین کی فوج سے کچھ نہیں ہونا ہے۔ وزیر اعظم کے پاس صلاحیت ہے کہ کام کے دس بندوں کا انتخاب کر سکیں۔ ان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ وزراء اور مشیران کی موجودگی میں ترقی ہو سکتی ہے؟
