اس وقت دنیا کورونا وبا کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے اور ہر طرف مریضوں تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ہلاکتیں بھی مسلسل جاری ہیں۔
تاہم دنیا کا ایک ملک ایسا ہے جس میں ابھی تک کورونا کے ہاتھوں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور اس وائرس سے جتنے لوگ بھی متاثر تھے وہ تمام صحت مند ہو گئے ہیں۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ اور خودمختار ملک ہے، یورپ میں واقع اس ملک کی آبادی 57 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہاں کا نظم صحت بہت کمزور ہے۔
چین میں دو قسم کی کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی منظوری
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہو گئی
اب تک گرین لینڈ میں 11 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور تمام کا تعلق نک شہر سے ہے، تاہم یہ سب مریض اب کورونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ان تمام افراد کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے اور یہ پوری طرح صحتمند قرار دیے جا چکے ہیں۔
ای یو آبزرور کے مطابق ملک کا دارالحکومت پوری طرح بند ہے اور کسی شخص کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، سرکاری طور پر یہ ملک وائرس فری قرار دیا جا چکا ہے۔
ملک بھر میں کوئی شخص خصوصی اجازت نامے کے بغیر باہر نہیں جا سکتا اور نہ ہی کشتی رانی کرسکتا ہے، شراب کی خرید و فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس چھوٹے سے ملک میں 72 قصبے اور دیہات ہیں جن کا آپس میں رابطہ نہ ہی ریل کے ذریعے ممکن ہے اور نہ ہی سڑکوں سے آمدورفت ہوسکتی ہے۔
ملک میں موجود چند ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز صرف ڈاک اور صحت کے شعبے سے متعلقہ افراد کے آنے جانے کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔
جب کورونا کی وبا پھیلی تو پورے ملک میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ زیادہ مریض سامنے آنے کی صورت میں ان کی دیکھ بھال ممکن نہیں ہو گی کیونکہ آبادیاں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں اور ہر جگہ صحت کا نظام کورونا مریضوں کا خیال رکھنے کا اہل نہیں ہے۔
اگرچہ ملک سرکاری طور پر وائرس فری ہے تاہم اب یہ سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کتنے روز تک پورے ملک کو بند رکھا جاسکتا ہے اور اگر سرگرمیاں کھول دی گئیں اور وبا پھر سے پھیلنا شروع ہو گئی تو کیا ہوگا۔
گرین لینڈ میں کسی کا داخلہ ناممکن ہے، سفری پابندیاں پوری طرح نافذ ہیں، کوئی پرواز، جہاز ملک میں نہیں آ سکتا اور نہ ہی عام لوگ جزیرے سے باہر جا سکتے ہیں۔
اس ملک میں ایک قصبے سے دوسرے قصبے تک جانے کے لیے سنو موبائل استعمال ہوتا ہے یا پھر ایسی گاڑیوں پر سفر ہوتا ہے جسے کتے کھینچتے ہیں۔
گرین لینڈ کے سابق وزیر صحت اوو روزنگ اولسن کا کہنا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن ابھی کافی مدت تک جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ ممکن ہے پورا ایک سال اسے جاری رکھنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں وبا پھیل گئی تو لوگوں کا علاج کرنے کے لیے حکومت کے پاس وسائل موجود نہیں ہیں۔
اوو روزنگ اولسن نے بتایا کہ 2009 میں یہاں کے ایک شہر میں سوائن فلو پھیل گیا تھا اور پوری آبادی اس کا شکار ہو گئی تاہم اس سے صرف ایک بچہ جاں بحق ہوا تھا۔
