امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران امریکیوں کو معاشی امداد کے طور پر دیے جانیوالے چیکوں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام پرنٹ کیا جائے۔
امریکی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے متاثر ہونیوالے کروڑوں ورکرز کو یہ امدادی چیک بھیجے جارہے ہیں، محکمہ خزانہ کے حکم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے امدادی چیک پر امریکی صدر کا نام شائع کرنے کے فیصلہ سے کورونا وائرس سے معاشی طور پر تباہ حال لاکھوں امریکیوں کو فنڈز کی تقسیم تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کورونا ریلیف فنڈ تنقید کی زد میں، عام لوگوں کو کم اور امراء کو زیادہ رقم ملنے کا انکشاف
قرنطینہ اور تنہائی، امریکہ میں کتوں کی طلب بڑھ گئی
کورونا سے اموات میں شدت، امریکہ میں اجتماعی قبروں میں تدفین شروع
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے امریکہ کے ”انٹرنل ریوینیو سروس“ کے ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ چیک امریکی حکومت کے کورونا کے دوران دیے گئے 2.3 کھرب ڈالرز کے پیکج کا حصہ ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر محکمہ خزانہ کو اپنا نام چیکوں پر پرنٹ کرانے کی سفارش کی تھی۔
امریکی اخبار نے طنز کرتے ہوئے اس فیصلہ کو ”بے مثال“ قرار دیا، یہ امدادی چیک لگ بھگ 7 کروڑ امریکیوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کے دوران 1200 ڈالر کی امدادی رقم کیلئے 15 کروڑ امریکی اہل ہیں جن میں سے 8 کروڑ کے اکاؤنٹس میں پہلے ہی رقم جمع کرائی جا چکی ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد 26 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
