دوستوں کے اصرار پر ناتجربہ کار شخص کو جنگی طیارے کا سفر مہنگا پڑگیا، سرپرائز فلائیٹ کے دوران فرانس کی ایک دفاعی کمپنی کا 64 سالہ ایگزیکٹو 5 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتے طیارے سے باہر جا گرا۔
6 اپریل کو شائع ہونیوالی حادثے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2019ء میں شمال مشرقی فرانس کے سینٹ ڈیزائر ہوائی اڈہ سے دو سیٹوں والا ڈاسال رافیل طیارہ اڑنے کے چند سیکنڈ بعد جب 400 میٹر کی بلندی پر پہنچا تو وہ شخص کاک پٹ سے باہر جا گرا۔
جہاز کے ٹیک آف کرتے وقت اس نے خود کو سنبھالنے کے لیے غلطی سے ایجیکٹ کرنے والا ہینڈل تھام لیا جس کے باعث وہ کاک پٹ سے باہر نکل گیا۔
وہ پیراشوٹ کے ذریعے قریبی کھیتوں میں تو اتر گیا لیکن اس دوران اسے کافی زخم آئے، بعد ازاں اسے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ماہرین نے اس واقعہ میں متعدد غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس پرواز کے لیے کئی میڈیکل وارننگز کو نظر انداز کیا گیا ۔ کھلے سیٹ بیلٹس اس کے کاک پٹ سے نکلنے کی وجہ بنے اور ایجکٹ ہونے کے بعد اُن کا ہیلمٹ بھی کہیں کھو گیا۔
اُس شخص نے کبھی لڑاکا طیارہ اڑانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اسے ماضی میں کبھی ملٹری ایوی ایشن کا تجربہ رہا ہے ۔
تحقیقات کرنے والوں نے بتایا کہ طیارہ میں سوار ہونے سے قبل ہی اس شخص کا دل 120 سے 145 فی منٹ رفتار سے دھڑک رہا تھا۔
اُس شخص کا کہنا ہے کہ فلائیٹ اس کے دوستوں نے گفٹ کی جس کے لیے وہ انکار نہ کرسکا۔
طیارے کے نظام میں خرابی کے باعث پائلٹ خود بخود باہر نکلنے سے بچ گیا اور وہ کاک پٹ کی کینوپی غائب ہو جانے اور ساتھی مسافر کی غیررضاکارانہ طور پر طیارے سے باہر نکل جانے کے باوجود بھی رن وے پر طیارے کو اتارنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس حادثہ سے متعلق دفاعی اور عدالتی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
