نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کورونا وائرس وباء کی وجہ سے اپنی اور اپنی کابینہ کی تنخواہوں میں اگلے 6 ماہ کے لیے 20 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نیوزی لینڈ کے شہریوں کی قربانیوں کو سراہنا ہے جو اس وقت عالمی وباء کوویڈ 19کی وجہ سے تنخواہوں میں کمی اور ملازمتوں سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے معاونین خصوصی، مشیران اور وزراء کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ حیران کن مراعات کا انکشاف
کورونا ریلیف فنڈ میں کروڑوں روپے کے عطیات جمع
بھارت کی 15 بڑی شخصیات جنہوں نے کورونا کے خلاف جنگ میں اربوں روپے عطیہ کر دیے
انہوں نے کہا کہ آج میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ میں، میرے حکومتی وزیر اور پبلک سروس چیف ایگزیکٹو اگلے 6 ماہ تک 20 فیصد کمی کے ساتھ اپنی تنخواہیں وصول کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہوں میں کٹوتی سے ان کی حکومت کی مالی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام کا مقصد اس قیادت کا اظہار ہے جو ان کی کابینہ اس موقع پر دکھائی ہے۔
کورونا وباء کیخلاف اقدامات پر نیوزی لینڈ حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی جارہی ہے، وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے 23مارچ کو غیر ملکی افراد کیلئے ملکی سرحدیں بند کرتے ہوئے ملک میں چار ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، حکومت کی جانب سے ضروری اشیاء کی خریداری کے علاوہ غیر ضروری باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے اور اب تک 9 اموات کے ساتھ 1386 کیسز رپور ٹ ہوئے ہیں۔
وزیراعظم اکثر ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیتے ہیں، ان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی اور وزراء کی تنخواہ میں کمی کر کے ہر طرف سے ہونے والی تنقید کا مثبت انداز میں جواب دے سکتے ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کو اپنے طور پر بھی اپنی تنخواہوں میں کمی کا اعلان کر دینا چاہئے۔
وفاقی وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی 2 لاکھ روپے کے قریب ماہانہ تنخواہ کے ساتھ دیگر کئی مراعات بھی حاصل کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بار بار مدد کی اپیل کی جا رہی ہے، مشکل کی گھڑی میں وزراء کو بڑھ چڑھ کر ساتھ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی تنخواہوں میں کمی کر کے پاکستان میں ایک نئی مثال قائم کرنی چاہیے۔
