کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ملک امریکہ کو اس بات کا شک ہے کہ وائرس کا آغاز چین میں فوڈ مارکیٹ کی بجائے لیبارٹری میں ہوا ہے جہاں سے یہ حادثاتی طور پر پھیل گیا۔ امریکی حکام نے باقاعدہ طور پر اس مفروضہ کی کھوج لگانا شروع کر دی ہے۔
کورونا کے چینی لیبارٹری سے پھیلاؤ کی تھیوری وبا کے شروع کے دنوں میں پھیلی تھی، چین کے شہر ووہان میں بیماریوں بارے دو ریسرچ لیب کی موجودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں یہ افواء پھیلی کہ یہ وائرس چین کی لیب سے نکلا ہوگا۔
امریکہ میں کورونا کیوں پھیلا؟ نئے حقائق سامنے آ گئے
کورونا وائرس پھیلاؤ: برطانوی تھنک ٹینک کی چین کے خلاف مقدمہ کی تجویز
کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں سیاہ فام زیادہ کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟
امریکی میڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چینی لیب سے کورونا کے پھیلاؤ کی تھیوری پر تحقیقات سے امریکی صدر ٹرمپ کے حامی وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں انکی ناکامی سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔
سی این این کی جانب سے اپنے ذرائع کے حوالہ سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس حکام اس تھیوری کی تصدیق کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس کے چینی لیب سے پھیلاؤ کی تھیوری کی چینی حکومت تردید کر چکی ہے اور دنیا بھر کے بیشتر ماہرین کی جانب سے بھی اسے جھٹلایا جا چکا ہے۔
سی این این کے مطابق چند امریکی حکام کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ چین کورونا وائرس پھیلاؤ پر قیمت ادا کرے۔ امریکی حکا م کے مطابق اس کام کیلئے امریکہ کے پاس کورونا وائرس کی تخلیق بارے زیادہ معلومات ہونی چاہئیں۔
یاد رہے امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد ساڑھے6لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ اس 30ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔
