چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس سے متاثرہ پہلا کیس اگرچہ 31 دسمبر 2019 کو سرکاری طور پر رپورٹ ہوا تاہم اس وائرس سے متاثرہ افراد نومبر کے مہینے سے ہی سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔
اس وقت ان افراد کو نمونیا سے متاثرہ مریض سمجھا گیا، بعد ازاں چین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اصافہ ہونے لگا اور یہ وبا بے قابو ہو کر چین سے باہر بھی پھیلنے لگی۔
عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق چین کے بعد 13 جنوری کو تھائی لینڈ میں پہلا کورونا وائرس کا کیس رپورٹ ہوا جبکہ 22 جنوری کو عالمی ادارہ صحت کے ایک وفد نے چین کا دورہ کیا اور ایک بیان جاری کیا جس میں دنیا کو خبردار کیا گیا کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں با آسانی منتقل ہو رہا ہے۔
کیا کورونا وائرس کا آغاز چین کی لیبارٹری سے ہوا؟ امریکہ نے تحقیقات شروع کر دیں
دنیا بھر میں سمارٹ فون کے ذریعے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی
11 مارچ 2020 میں عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا۔ ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار کے مطابق 6 مارچ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ تھی جو کہ 18 مارچ تک دو لاکھ ہو گئی۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق 4 اپریل کو کوڈ 19 سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 11 لاکھ تھی جو کہ گزشتہ 12 دنوں میں بڑھ کر 21 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
یہ بات پریشان کن ہے کہ یہ وائرس گزشتہ دو ہفتوں میں کسقدر تیزی سے پھیلا ہے، جہاں پہلے 3 مہینوں میں اس وائرس نے 10 لاکھ لوگوں کو متاثر کیا وہیں دو ہی ہفتوں میں یہ تعداد دگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
اب تک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ 64 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
طبی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد رپورٹ کردہ ڈیٹا سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وبا کا تیزی سے پھیلنا اور دنیا بھر کے ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کا آج کے ترقی یافتہ دور میں ابھی تک اس وائرس کا ٹھوس علاج دریافت نہ کر سکنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ، اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ سرفہرست ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار 500 سے زائد جبکہ اموات 123 ہو چکی ہیں۔
