اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے اپنے دو وفاقی وزیروں سمیت پچاس سے زائد وی آئی پی افراد کو خطرناک اور مممنوعہ اسلحہ کے لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ غیرمعمولی منظوری کابینہ کے ایک پچھلے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔
جن اہم شخصیات کو خطرناک اسلحہ لائسنس جاری کرنی کی منظوری دی گئی ان میں وفاقی وزیر علی حیدر زیدی اور فیصل واوڈا بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کو بھی ممنوعہ اسلحہ خریدنے اور رکھنے کی اجازت اسی کابینہ اجلاس میں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے دو مختلف سمریاں پیش کی گئی تھیں۔ ایک سمری میں ان وی آئی پیز کے نام تھے جو خطرناک اسلحہ لائسنس چاہتے تھے اور دوسری فہرست ان وی ائی پی افراد کی تھی جو غیرممنوعہ اسلحہ کا اجازت نامہ لینے کے خواہشمند تھے۔
امریکہ میں پچھلے دنوں اسلحہ کی دکانوں کے باہر لوگوں کا رش دیکھا گیا تھا، سب لوگ اسلحہ خریدنا چاہتے تھے کہ کورونا کی وجہ سے کہیں فسادات شروع نہ ہو جائیں یا خوراک کی کمی پر لوٹ مار نہ شروع ہوجائے۔
ممنوعہ اسلحہ کی فہرست میں ریوالور، رائفل 303, رائفل جی تھری، شاٹ گن اور اسٹین گن شامل ہیں جب کہ غیر ممنوعہ اسلحہ میں شاٹ گن، ریوالور یا کوئی بھی رائفل جو ممنوعہ نہ ہو اور تلوار شامل ہیں۔
جن کو کابینہ نے خطرناک اسلحہ لائنسں کی منظوری دی ہے ان میں گورنر سند عمران اسماعیل، گورنر کے پی شاہ فرمان، گورنر گلگت راجہ جلال حسین، وفاقی وزیر فیصل ووڈا، وفاقی وزیر علی حیدر زیدی، جسٹس چوہدری عبدالعزیز، جسٹس محسن اختر، جسٹس گل حسن، اڈیٹر جنرل اف پاکستان جہانگیر جاوید، سیکرٹری کابینہ معروف افضل، سیکرٹری پارلیمانی افئیرز عبدالمالک غوری، وفاقی سیکرٹری رضوان شیخ ، سیکرٹری مذہبی امور محمد مشتاق، سابق چیف الیکشن کمشنر یعقوب بابر، چیرمین فیڈرل پبلک سروس کمشن حسیب اختر، سپیشل سیکرٹری فارن آفس معظم احمد خان، پاکستانی سفیر جکارتا عبد سالک خان ، ڈی جی نیشنل پولیس بیورو سید اعجاز حسین، کنٹرول جنرل آف پاکستان محمد اصغر خان اور سیکرٹری پٹرولیم میاں اسد شامل ہیں۔
جب کہ جن وی ائی پی کو غیرممنوعہ اسلہ لائنس دیے گئے ہیں ان میں اسپیکر اسد قیصر، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وفاقی وزیر علی حیدر زیدی شامل ہیں۔
