ابوظہبی میں ایک بھارتی منیجر سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے۔
ابوظہبی کی فرم میں فنانشل منیجر کی پوزیشن پر کام کرنیوالے بھارتی شہری متیش فیس بک پوسٹ کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کی زد میں آگئے ہیں۔
متیش نے فیس بک پر ایک کارٹون پوسٹ کیا جس میں دکھایا گیا کہ ایک جہادی کوروناوائرس پھیلانے والا خود کش بمبار کی دھماکے سے 20 افراد کی ہلاکت کے مقابلہ میں دو ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔
بھارت: تبلیغی اجتماع میں چند افراد کی شرکت مگر سزا پوری برادری کو
مودی سرکار بھارتی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کیلئے مسلسل کوشاں
یہ پوسٹ ان جھوٹی ویڈیوز کا ایک حوالہ ہے جس میں بھارت میں مسلم تبلیغی جماعت کے ممبروں کو پولیس پر تھوکتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو جھوٹ پر مبنی ہیں۔
متیش کی پوسٹ پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی کہ انہیں نوکری سے برخاست کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے۔
جب گلف نیوز کی جانب سے متیش کی اس پوسٹ کی طرف کمپنی کی توجہ دلائی گئی تو کمپنی کے قانونی مشیر نے بتایا کہ اس معاملے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اگر ثابت ہوگیا کہ یہ پوسٹ متیش کی جانب سے لگائی گئی تو متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی ،انہیں نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا۔
کمپنی مشیر کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔
آخری ہفتہ ملازمت کی تلاش میں پھرنے والے ایک بھارتی شہری کو اس کے اپنے ملک کے ساتھی ایس بھنڈاری جو متحدہ عرب امارات میں ایک ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کے مالک ہیں کی جانب سے کہا گیا کہ وہ واپس پاکستان چلے جائیں۔
مہاراشٹرا انڈیا سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ شمشاد عالم نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنی سی وی بھنڈاری سے واٹس ایپ پر شیئر کی تو ان کی طرف سے مجھے جواب ملا کہ ’’واپس پاکستان جائیں‘‘۔
عالم کہتے ہیں کہ میں حیرت زدہ ہوں کہ کوئی اتنا حساس کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ کہتے ہیں جب میں نے بھنڈاری سے بات کی تو اس نے آگے سے مجھے گالیاں دیں اور پولیس کو رپورٹ کرنے کی دھمکی دی۔
شمشاد عالم نے اس حوالے سے دبئی پولیس کو رپورٹ کی ہے، ان دونوں کے درمیان ہونیوالی واٹس ایپ چیٹ بھی اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں کسی مذہبی طبقے کی دل آزاری چاہے، وہ کسی بھی صورت میں ہو، ممنوع ہے، اس حوالے سے ماضی میں متعدد افراد کو سزائیں دی گئیں، کئی افراد ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
