• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

سانحہ بشریٰ زیدی (پہلی قسط)

by sohail
اپریل 16, 2020
in کالم
1
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 (بشری زیدی کے سانحے نے کراچی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 15 اپریل سن  1985 کو حادثے والے دن کیا ہوا، بطور مجسٹریٹ آن ڈیوٹی، مصنف کی جانب سے آنکھوں دیکھا احوال۔ نئے زاویے، نئی باتیں اور گم نام حقائق پہلی بار منظر عام پر)

…………………………………….

بشری زیدی کی موت  کا سانحہ کراچی کو تباہی اور بے لطفی کے موجودہ دہانے تک پہنچانے میں ایک تکلیف دہ سنگ میل کا مقام رکھتا ہے۔ 15 اپریل 1985  کو پیش آنے والے  یعنی اب سے  پینتیس سال پرانے اس کرب ناک سانحے  کے محرکات اب تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئے ہیں۔ ہم وہ لوگ نہیں جو اپنی تاریخ ٹھیک سے Document اور Curate کریں۔

آئیے ایک بڑے سے برش سے اس منظر نامے کے محرکات کو پینٹ کرلیتے ہیں۔ پہلا محرک تو یہ تھا کہ افغانستان اور ایران میں جس قسم کی جنگ  اور انقلاب ظہور پذیر ہورہا تھا اس میں ایک بڑا مسلکی اور فکری تضاد تھا۔ کراچی کی مذہب سے جڑی قیادت خالصتاً وہابی، دیوبندی، سلفی اور سنی تھی۔۔ افغان جہاد سے پیوستہ کراچی کے سیاسی افق پر مقیم غیر مقامی افراد کا قبضہ تھا۔ جیسے مفتی نظام الدین شام زئی، مفتی رز ولی، مولوی اسفندیار، حق نواز جھنگوی۔ اس کی وجہ سے بیرونی طاقتوں بالخصوص را خاد جیسے اداروں کو موقعہ مل جاتا تھا کہ وہ معمولی مقامی تنازعے کو بھی فرقہ وارانہ فسادات کا روپ دے کر پھیلاوا دیں۔

مقامی شیعہ آبادی جن کی اکثریت اردو اور گجراتی بولنے والے افراد پر مشتمل تھی ان کی وابستگی ایران سے تھی اور وہ ان ریشہ دوانیوں سے تنگ تھے۔ یہ فکری اور مالی سطح پر بہت بلند اور قدرے صلح جو تھے۔ میڈیا، خفیہ اداروں، شو بز، مالیاتی اداروں اور دنیائے فن و ادب میں ان کی بھرمار تھی۔

اسی تصادم و تناظر میں وہ کراچی کی آبادی کو جوڑ کر رکھنے کے لیے ایک سیاسی قوت کو سامنے لانا چاہتے تھے جو ان کے تحفظ میں مکمل سیکولر آؤٹ لک رکھتی ہو۔ دوسرا محرک یہ تھا کہ کراچی کی پولیس اور ٹرانسپورٹ پر بھی غیر مقامی افراد کا تسلط تھا۔ منی بس جسے عرف عام میں پیلا شیطان ((Yellow Devil  کہا جاتا ہے اس کی چلت پھرت میں زیادہ تر افغانی اور پختون شامل تھے۔ ان منی بسوں کے ڈرائیور اور کلینرز زیادہ تر افغان مہاجرین تھے۔ ان کا واحد مقصد اپنی دہاڑی کھری کرنے کے علاوہ مالک کو مال بھی کما کر دینا تھا۔ زیادہ ٹرپس کا مطلب زیادہ کمائی۔ اسٹاپ سے اسٹاپ وقت کی پابندی نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ  فی منٹ پچاس روپے ڈرائیور پر عائد ہوتا ہے۔ یہ تعلیم سے پرے اور مزاجاً ناشائستہ افراد پبلک سیفٹی، اسپیڈ، توازن  سے قطعی نابلد تھے۔

تیسرا بڑا محرک سندھ کی سیاست تھی۔ کراچی کے مہاجر جنرل ضیا کی مجلس شوری میں اپنے دو ممبران پروفیسر غفور اور محمود اعظم فاروقی کی کوٹہ سسٹم کی توسیع پر مخالفت نہ کرنے کی وجہ سے ناراض تھے۔ جماعت اسلامی مولانا طفیل کے زیر دست تھی۔ مولانا میاں طفیل شنید ہے کہ جنرل ضیا کے ماموں تھے، اس لیے اس وقت کسی شاعر نے کہا تھا ع

ہر کام میرا اسلامی ہے،

ماموں بھی میرا حامی ہے۔

کراچی کے میئر، لیاری کے عبدالستار افغانی تھے۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ کراچی میں وہ واحد افغان تھے جو اتنے سیاہ فام تھے۔ ورنہ افغان کوئلے کی دلالی میں بھی کالا نہیں پڑتا۔ مزاج دھیما اور گفتگو سہمی سہمی مگر شائستہ۔ سیاست کی اتنی ہی سمجھ رکھتے تھے جتنی جماعت اسلامی کو رکھنے کی اجازت ہے۔ ایماندار تھے مگر بہکاوے میں جلد آجاتے تھے۔ غوث علی شاہ سندھ کے چیف منسٹر تھے انہوں نے سب سے پہلے کراچی کی آکٹرائی کی اربوں روپے کی آمدنی پر نظر بد ڈالی۔ اس پر ڈاکہ ڈال کر اسے اپنی صوبائی حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اشتعال دلانے میں اپنی مثال آپ نورانی میاں کی پارٹی جمعیت علمائے پاکستان کے صدیق راٹھور اور کراچی کے دیگر بلدیاتی نمائندے شاہ صاحب پر چڑھ دوڑے۔

شاہ صاحب،جماعت اسلامی سے کراچی چھیننا چاہتے تھے۔ سات سال پہلے یعنی 1978 بڑی خاموشی سے” علم سب کے لیے“ کا مشن لیے آل پاکستان مہاجر اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن۔ جامعہ کراچی میں قائم ہوچکی تھی۔ الطاف حسین اس کے رہبر تھے۔ اس طلبا تنظیم نے بڑی خاموشی سے چھ سال کے اندر مہاجر قومی موومنٹ کا روپ اختیار کرلیا تھا۔

یہ سب محرکات بشریٰ زیدی کے نغمہ ہلاکت میں پس منظر موسیقی بن کر شامل ہوگئے۔15 اپریل 1985 کا دن اگر چپ چاپ گزر جاتا تو کراچی کا معاملہ  کلوپیڑا کی ناک جیسا ہوتا۔ فرانسیسی ریاض دان پاسکل کا نظریہ ہے کہ تاریخ حادثات کا مجموعہ ہے۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ملکہ کی ناک اگر معمولی سے چھوٹی اور کم من بھاؤنی ہوتی تو نہ رومن بادشاہ جولیس سیزر اور نہ رومن جنرل انطونی کا دل اس پر آتا۔ تاریخ یوں کچھ اور کروٹ لے رہی ہوتی ۔پاکستان کی ایک مشہور سیاست کار خاتون بھی اپنی ناک کے نوکیلے پن سے نالاں تھیں اور اداکارہ کرشمہ کپور کی طرح کئی Nose-Jobs کرائے تھے۔

مرحومہ بشریٰ کا سر سید گرلز کالج، اردو بولنے والے مہاجرین کے سب سے باشعور علاقے ناظم آباد نمبر ایک کی مین شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ علاقہ پھیل کر دوسرے اہم مہاجر علاقے، سامنے رضویہ کالونی، فردوس کالونی، اس کے پار لالو کھیت (موجودہ لیاقت آباد) فیڈرل بی ایریا، پاپوش، نارتھ ناظم آباد اور پھر اورنگی اور نیو کراچی سے جاملتا ہے۔ ان دنوں یہ نوے فیصد علاقہ  ضلع وسطی میں شامل ہے۔ ایم کیو ایم کا مرکز اسی ضلع میں ہوا کرتا تھا۔

اس لحاظ سے اس علاقے کی مہاجر سیاست اور بود و باش میں وہی اہمیت ہے جو بی جے پی کی سیاست میں Cow-Belt کی۔ 15 اپریل 1985 کو صبح آٹھ بجے کے قریب یہ تین  پڑوسن سہیلیاں بشریٰ، اس کی بہن نجمہ اور ایک اور لڑکی بس سے اتر کر سامنے کالج جانے کے لیے روڈ کراس کر رہی تھیں کہ  روٹ این۔ون کی دو منی بسیں سگنل توڑتی ہوئی انہیں کچل کر فرار ہو گئیں۔ بشریٰ کا موقع پر ہی انتقال ہو گیا۔ نجمہ زخمی ہوئی اور تیسری لڑکی کا نہ نام نہ کوئی تفصیل سامنے آئی۔ خود ڈرائیور کے بارے میں بھی ابتدا میں مشہور ہوا کہ وہ پختون تھا مگر بعد میں کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے کبھی اس کا تعلق آزاد کشمیر اور پنجاب سے بتایا گیا۔ ہماری اطلاع یہ ہے کہ اس کا نام راشد حسین تھا اور وہ بہاری تھا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔

sohail

sohail

Next Post
اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کا اعلان

اسٹیٹ بینک کا شرح سود مزید دو فیصد کم کرنے کا اعلان

ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

کورونا وائرس سے عورتوں کی نسبت مردوں میں اموات کی شرح زیادہ کیوں‌ہے؟

کورونا وائرس سے عورتوں کی نسبت مردوں میں اموات کی شرح زیادہ کیوں‌ہے؟

سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹیں، متحدہ عرب امارات میں دو بھارتی شہری مشکل میں پھنس گئے

سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹیں، متحدہ عرب امارات میں دو بھارتی شہری مشکل میں پھنس گئے

آزاد کشمیر کی حکومت کا مسجدوں میں نماز کی ادائیگی سے پابندی ہٹانے کا اعلان

آزاد کشمیر کی حکومت کا مسجدوں میں نماز کی ادائیگی سے پابندی ہٹانے کا اعلان

Comments 1

  1. سجیل سرور says:
    6 سال ago

    کرشمہ کپور کی۔جیت فلم دیکھ ہمیں اس سے پیار ہو گیا تھا، فلم میں اسکے ڈریسز بہت شاندار تھے۔
    🙂

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In