کورونا وائرس سے ہونیوالی اموات کے اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں مردوں کی تعداد زیادہ جبکہ خواتین کی نسبتاً کم رہی ہیں۔
برطانیہ کے قومی شماریات کے آفس کے اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک شدہ مرد وں کی تعداد عورتوں کے مقابلہ میں دگنا ہے۔ اسی طرح چین کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے مردوں کی اموات کی شرح 2.8 فیصد جبکہ عورتوں میں یہ شرح 1.7 فیصد ہے۔
فرانس، اٹلی، اسپین، ایران، جنوبی کوریا اور جرمنی میں بھی کورونا وائرس سے مرد حضرات کی ہلاکتیں زیادہ ہیں۔
دنیا کے کچھ ممالک میں کورونا سے اموات کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟
دنیا کا واحد ملک جہاں کورونا کے تمام مریض صحتیاب ہو گئے
اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاک شدہ افراد میں سے 71 فیصد مرد تھے۔ اسپین میں کورونا وائرس سے مرنیوالوں میں مرد عورتوں کی نسبت دگنا تھے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونیوالی 4122 ہلاکتوں میں سے 2523 مرد حضرات تھے۔
سائنسدان ابھی تک اس بات کی کھوج میں ہیں کہ کورونا وائرس مردوں کیلئے زیادہ مہلک کیوں ثابت ہورہا ہے، اب تک انکی جانب سے مرد حضرات کی زیادہ ہلاکتوں کی کئی وجوہات بتائی گئی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق عورتوں کی کم ہلاکتوں میں انسان کی بائیولوجی، رویوں اور طرزِ زندگی کا کردار ہے۔
آغاز میں اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہوئے سائنسدانوں کی جانب سے مردوں کی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ سگریٹ نوشی بتائی گئی کیونکہ دنیا بھر میں عورتوں کی نسبت مرد حضرات زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں جس سے انکے پھیپھڑوں کی صحت کچھ زیادہ بہتر نہیں رہتی۔
گزشتہ ماہ ایک اسٹڈی سے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سگریٹ نوشی کرنیوالے 26 فیصدمریضوں کو ICUجانا پڑتا ہے۔
مگر برطانیہ جیسے کئی ممالک ہیں جہاں سگریٹ نوشی کی عادی خواتین کی تعداد مردوں کے تقریبا برابر ہے مگر وہاں بھی عورتیں کم مررہی ہیں۔
چین میں سگریٹ نوشی کرنیوالے مردوں کی تعداد 50 فیصد جبکہ عورتوں کی صرف 2 فیصد ہے مگر برطانیہ میں تمباکو نوشی کے عادی مرد حضرات 16.5 فیصد جبکہ عورتیں 13 فیصد ہیں۔ ایسے حالات میں تمباکو نوشی کے مفروضے میں جا ن کم نظر آتی ہے۔
ان حالات میں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے بیالوجیکل فیکٹرز ہیں جو عورتوں کی نسبت مردوں کی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ بن رہے ہیں۔
طبی ماہرین ریسرچ سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ بہت سارے وائرل انفیکشنز جیسا کہ ہیپاٹائٹس سی اور ایڈز وغیرہ کے خلاف مردوں کی پیدائشی مدافعت کم ہوتی ہے۔
چوہوں پر کئے گئے تجربات کی روشنی میں ماہرین یہ نتائج اخذ کر رہے ہیں کہ کچھ ایسا ہی کورونا وائرس کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ کورونا وائرس جسم میں آنے کے بعد مرد حضرات کا مدافعتی نظام ابتدائی طور پر درست جوابی کارروائی کرنے میں ناکام ہوجاتا ہو۔
اس کے علاوہ طبی ماہرین کی جانب سے عورتوں کی کم اموات کی وجہ ہارمون بھی بتائے جا رہے ہیں۔ خواتین میں پائے جانیوالے ایسٹروجن ہارمون کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس سے مدافعتی سیلز کی اینٹی وائرل صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مدافعاتی نظام کو ریگولیٹ کرنے والے بہت سے جینز ایکس کروموسومز سے جڑے ہوتے ہیں اور چونکہ خواتین میں ان کروموسومز کی تعداد 2 جبکہ مردوں میں ایک ہوتی ہے اس لیے اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ کورونا وائرس جیسے جرثوموں کے خلاف کام کرنیوالے مدافعتی نظام کا حصہ جینز عورتوں میں زیادہ سرگرم ہوں۔
ماہرین کی جانب سے کورونا وائرس سے مرد حضرات کی زیادہ ہلاکتوں کی ایک اور وجہ چند عادات بتائی جاتی ہیں۔ کچھ اسٹڈیز سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مرد حضرات عورتوں کی نسبت ہاتھ کم دھوتے ہیں۔
اسی طرح مرد عورتوں کی نسبت صابن کا استعمال بھی کم کرتے ہیں۔ ان عادات کے باعث مردوں کیلئے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
