کورونا وائرس پر کامیابی سے قابو پانے پر جنوبی کوریا کی عوام نے حکمران جماعت کو قومی اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جتوا دیا ہے۔
جنوبی کوریا کی عوام کی جانب سے حکمران جماعت ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ پر قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، عالمی مبصرین کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف کامیاب حکمت عملی کو صدر مون کی جماعت کی کامیابی کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
کورونا وبا سے قبل صدر مون کی حکمران جماعت تیزی سے غیر مقبول ہورہی تھی، معاشی سست روی اور وزیروں کے اسکینڈل سامنے آ رہے تھے جس سے حکمران جماعت کی عوام میں پذیرائی کم ہوگئی تھی، مگر کورونا وبا کے دوران بہترین اور بروقت اقدامات نے اس جماعت کو الیکشن میں بھاری برتری دلا دی ہے۔
جنوبی کوریا کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی میں دنیا کے لیے چار اہم سبق
کورونا وائرس: عالمی ماہرین کی دنیا پر مشرق کی حکمرانی کی پیش گوئی
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں پہلی حکومت تبدیل
وبا کے خلاف کامیاب لڑائی کے بعد عالمی ماہرین کی جانب سے صدر مون سے رابطے کر کے انکی پالیسیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، سیاسی ماہرین اسے صدر کی ”کورونا وائرس ڈپلومیسی“ کا نام دے رہے ہیں، ان رابطوں کے بعد جنوبی کوریا کے صدر کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
اس وقت کورونا وائرس پھیلاؤ کے دوران دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے رکھا ہے لیکن جنوبی کوریا نے انتخابات منعقد کرا دیے ہیں جس میں جنوبی کوریا کی عوام ووٹ ڈالنے کیلئے بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلی ہے۔
اس الیکشن میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ووٹرز کا ٹرن آؤٹ سب سے زیادہ 66.2 فیصد تھا جو 1992ء کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
گزشتہ روز ہونیوالے انتخابات میں جنوبی کوریا کی حکمران جماعت اور اتحادیوں کو قومی اسمبلی کی 300 سیٹوں میں سے 180 سیٹیں ملی ہیں جسے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ”سب سے بڑی اکثریت“ کہا جارہا ہے۔
جنوبی کوریا میں 1987ء سے جمہوریت ہے اور موجودہ انتخابات میں جنوبی کوریا کے صدر مون کی جماعت نے بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔
چند ہفتے قبل جنوبی کوریا کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں چین کے بعد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر تھا مگر حکومت کی بہت زیادہ ٹیسٹ کرنے کی پالیسی، وائرس سے متاثرہ افراد کی کھوج اور سماجی فاصلوں پر عمل درآمد کی پالیسی نے وبا سے نمٹنے میں مدد دی۔
اس وقت جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10,613 ہے جبکہ اس سے اموات کی تعداد 229 ہے۔
کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا فیصلہ کورونا کے خلاف ان کی کامیابی یا ناکامی کرے گی۔
یہ معاملہ صرف جمہوری حکومتوں کا نہیں ہے، جہاں بھی بادشاہت یا آمرانہ طرز نظام ہے وہاں بھی کورونا وائرس کی تباہی سے بچانا حکمرانوں کی ضرورت بن چکا ہے۔
