وفاقی حکومت نے بیرون ملک واپس آنے والے پاکستانیوں کے لیے نئے طریق کار کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق انہیں واپسی پر ہوٹل کا سات دن کا کرایہ بھی ادا کرنا ہو گا۔
مشیر برائے قومی سلامتی امورمعید یوسف نے کہا ہے کہ باہر کے ممالک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کو ایئرپورٹ سے فوری طور پر قرنطینہ میں منتقل کر دیا جائے گا جہاں انہیں 7 روز رہنا ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک جانے کے اخراجات اور 7 روز کی رہائش کا خرچ مسافروں کے ذمہ ہو گا۔
حکومت نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا اعلان کر دیا
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
یاد رہے کہ منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معید یوسف نے بتایا تھا کہ پاکستان کے 6 ایئرپورٹ کھول دیے گئے ہیں تاکہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جا سکے۔
انہوں نے اعلان کیا تھا کہ 20 اپریل کے بعد 6 ایئرپورٹ مسلسل کھلے رکھیں جائیں گے اور ہر ہفتے چھ سے سات ہزار پاکستانی واپس لا سکیں گے۔
معید یوسف نے بتایا کہ بیرون ملک پھنسے 35 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی اپنے وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ان میں قیدی بھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جن کے خلیجی ممالک کے ویزے ختم ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ان ممالک کے ساتھ تعاون اور لیبر تعلقات کی ازسرنو تشکیل کا سوچ رہی ہے جنہوں نے پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای حکومت مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جن میں ایسے ممالک سے نئی بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور کوٹا سسٹم لانا شامل ہے۔
ایمریٹس کی نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق مزید امکانات میں باہمی یادداشت کے ان معاہدوں کو معطل کرنا بھی شامل ہے جو یو اے ای کی وزارت ہیومن ریسورس نے ان ممالک کے متعلقہ حکام سے کیے ہیں۔
