وفاقی وزیر کے مساوی اختیارات اور عہدہ کے حامل وزیر اعظم کے 5 مشیروں اور 14 غیر منتخب معاونین خصوصی کی تقرریاں غیر آئینی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
آئینی درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر جدون کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی گئی جس میں وزیراعظم کے مشیر ملک امین اسلم خان، عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان کو فریق بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم کے معاونین خصوصی، مشیران اور وزراء کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ حیران کن مراعات کا انکشاف
حکومت کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثہ جات اب تک عوام سے پوشیدہ کیوں؟
ریاست کو تنقید برداشت کرنی چاہیے، سپریم کورٹ
وزیراعظم کے 14 معاونین خصوصی جن میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مرزا شہزاد اکبر، محمد شہزاد ارباب، سید ذوالفقار عباس بخاری، شہزاد سید قاسم، علی نواز اعوان، عثمان ڈار، ندیم افضل گوندل، سردار یار محمد رند، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ندیم بابر، معید یوسف اور ڈاکٹر تانیہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان تقرریوں کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور مشیروں اور معاونین خصوصی کو وفاقی وزیر کے برابر اختیار دینا خلاف آئین قرار دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 1973 کے رولز آف بزنس کا رول 4(6) اور غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کی جانب سے استعمال کیے گئے انتظامی اختیارات کو غیرآئینی قرار دیا جائے۔
درخواست گزار نے مزید استدعا کی ہے کہ یہ بھی قرار دیا جائے کہ وزیراعظم کے مشیر اور معاونین خصوصی تنخواہ سمیت کسی مالی مراعات کے مستحق نہیں۔
ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کو دی جانے والی ساری تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم بھی صادر کرے۔
