• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

دہلی میں انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے 53 افراد کی کہانی

by sohail
اپریل 15, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
دہلی میں انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے 53 افراد کی کہانی
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

رواں برس فروری میں بھارت کے شہریت سے متعلق نئے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے 53 بے گناہ افراد کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ بھارت کے نئے سٹیزن شپ لاء کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور مسلمانوں کی جانب سے اس قانون کو امتیازی قرار دیا گیا تھا۔

انتہا پسندوں کے ہاتھوں مرنے والے ان افراد میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ تشدد کے ان واقعات میں ایک درجن کے قریب ہندو بھی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

مودی سرکار بھارتی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کیلئے مسلسل کوشاں

کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف

 انتہا پسند ہندوؤں کے جتھوں نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا،انکے گھر،دکانیں اور مساجد جلا دی گئیں۔ اس قتل عام میں بھارتی پولیس پر بھی انتہا پسند وں کی معاونت کا الزام لگا تھا۔

الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے اس قتل عام میں جان کی بازی ہارنے والے معصوم افراد کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں جو کچھ یوں ہیں۔

اشفاق حسین

22 سالہ اشفاق حسین کو 24 فروری کو انتہاپسند ہندوؤں نے قتل کیا، انکی الیکٹریکل شاپ تھی اوردس روز قبل شادی ہوئی تھی۔

محمد سلیمان

محمد سلیمان کا تعلق یو پی سے تھا اور وہ دہلی میں مزدوری کرتا تھا، 25 فروری کو وہ کام پر گیا مگر واپس نہ آیا۔ چند روز بعد اسکے گھر والوں کو سلیمان کی لاش سرکاری اسپتال سے ملی

اکبری

اکبری ان فسادات کا نشانہ بننے والی 85 سالہ بزرگ خاتون تھیں۔ 26 فروری کو گامڑی نامی گاؤں میں ان کا گھر جلایا گیا تو وہ بھی لقمہ اجل بن گئیں۔

مشرف

مشرف مصطفی آباد سے تعلق رکھنے والا ایک مزدور تھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایک ہندو جتھا اسے گھر سے گھسیٹ کر لے گیا اور مار مار کر ہلاک کر دیا۔ 35 سالہ مشرف کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

شعبان

شعبان پیشہ کے لحاظ سے ویلڈر تھا اور تعلق یو پی سے تھا۔ وہ کام پر گیا تو واپس نہ آیا۔ ان کے خاندان نے تلاش شروع کی تو 28 فروری کو سرکاری اسپتال سے شعبان کی لاش ملی۔

دلبیر سنگھ نیگی

20 سالہ نیگی مٹھائی کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ 25 فروری کو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد نیگی گودام میں سویا تو انتہا پسندوں کی جانب سے حملہ کردیا گیا، انکے خاندان کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے دلبیر سنگھ کو کاٹ کر جسم جلا دیا۔

سونو

32سالہ سونو کے خاندان کی جانب سے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا گیا ہے کہ سونو نے ہندو جتھے کی جانب سے ایک مسلمان کو قتل ہوتے دیکھا تو اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔

نیتین کمار

نیتین کمار دہلی تشدد کا شکار بننے والے سب سے کم عمر فرد تھے، انکی عمر 15 برس تھی۔

بابو

بابو کی عمر30 برس تھی اور وہ رکشہ چلاتے تھے۔ 25 فروری کو وہ دوپہر کو گھر کھانا کھانے آ رہے تھے کہ انتہا پسند جتھوں کے ہتھے چڑھ گئے۔

مبارک حسین

31 سالہ مبارک حسین دہلی کے موج پور کے علاقہ میں مزدوری کرتے تھے، 25 فروری کو پرتشدد واقعات کے دوران انہیں سینے میں گولی لگی جس سے وہ دم توڑ گئے۔

مونس

مونس کا تعلق یوپی کے ہردوئی ضلع سے تھا۔ وہ دہلی کے علاقہ مصطفی آباد میں رہتے تھے اور مزدوری کرتے تھے، وہ 25 فروری کو گھر سے باہر گئے تو واپس نہیں آئے۔ 28 فروری کو انکے گھر والوں کو اسپتال سے انکی لاش ملی۔

محسن علی

محسن علی کی دسمبرمیں شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی اہلیہ اور چھوٹی بہن کے ہمراہ رہ رہے تھے، وہ جنریٹرز کرائے پر دینے کا کام کرتے تھے، 25 فروری کو وہ کام کے سلسلہ میں گھر سے گئے مگر واپس نہ لوٹ سکے۔

مہتاب

مہتاب گھر کا سامان لینے کیلئے باہر گئے اور واپسی پر فسادیوں نے ان پر حملہ کردیا، وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور دم توڑ گئے، انکی عمر22 برس تھی۔

پریم سنگھ

پریم سنگھ دہلی کے علاقہ برجپوری میں اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، وہ رکشہ چلاتے تھے۔ 25 فروری کو وہ کام کے سلسلہ میں گھر سے گئے مگر واپس نہ لوٹ سکے۔ انکی لاش سرکاری اسپتال میں پائی گئی۔

الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے تشدد میں مرنیوالے ان افراد کے علاوہ دیگر افراد کی تفصیلات بھی شائع کی گئی ہیں جن میں ویر بھان، عقیل احمد، راہل ٹھاکر، مدثر خان، ذاکر سیفی، سلمان، عاقب، بھورے علی، سنجیت، انکیت شرما، پرویز، معروف، ایوب، فیضان، محمد فرقان، اشتیاق خان، محمد یوسف، محمد انور قیصر، جمیل قریشی، عاطف، شاہد خان، ونود کمار، ناریش کمار سینی، عرفان، رتن لال، مرسلین ملک، دینیش کمار، دیپک کمار، امان اقبال، عالم، ناظیم خان، شان محمد، الوک تیواری شامل ہیں۔

Tags: بھارت میں فساداتبھارت میں ہندو انتہاپسندی
sohail

sohail

Next Post

کورونا وائرس اور اشرافیہ کی بیرون ملک علاج سے محرومی

کورونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی

کورونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی

چیئرمین پی سی بی نے میچ فکسنگ کے خلاف قانون سازی کی حمایت کر دی

چیئرمین پی سی بی نے میچ فکسنگ کے خلاف قانون سازی کی حمایت کر دی

دنیا بھر میں سمارٹ فون کے ذریعے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی

دنیا بھر میں سمارٹ فون کے ذریعے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی

فواد چوہدری کا مفتی مینب الرحمان پر طنز، رمضان کے چاند کی پیش گوئی بھی کر دی

فواد چوہدری کا مفتی مینب الرحمان پر طنز، رمضان کے چاند کی پیش گوئی بھی کر دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In