رواں برس فروری میں بھارت کے شہریت سے متعلق نئے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے 53 بے گناہ افراد کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ بھارت کے نئے سٹیزن شپ لاء کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور مسلمانوں کی جانب سے اس قانون کو امتیازی قرار دیا گیا تھا۔
انتہا پسندوں کے ہاتھوں مرنے والے ان افراد میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ تشدد کے ان واقعات میں ایک درجن کے قریب ہندو بھی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
مودی سرکار بھارتی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کیلئے مسلسل کوشاں
کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف
انتہا پسند ہندوؤں کے جتھوں نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا،انکے گھر،دکانیں اور مساجد جلا دی گئیں۔ اس قتل عام میں بھارتی پولیس پر بھی انتہا پسند وں کی معاونت کا الزام لگا تھا۔
الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے اس قتل عام میں جان کی بازی ہارنے والے معصوم افراد کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں جو کچھ یوں ہیں۔
اشفاق حسین
22 سالہ اشفاق حسین کو 24 فروری کو انتہاپسند ہندوؤں نے قتل کیا، انکی الیکٹریکل شاپ تھی اوردس روز قبل شادی ہوئی تھی۔
محمد سلیمان
محمد سلیمان کا تعلق یو پی سے تھا اور وہ دہلی میں مزدوری کرتا تھا، 25 فروری کو وہ کام پر گیا مگر واپس نہ آیا۔ چند روز بعد اسکے گھر والوں کو سلیمان کی لاش سرکاری اسپتال سے ملی
اکبری
اکبری ان فسادات کا نشانہ بننے والی 85 سالہ بزرگ خاتون تھیں۔ 26 فروری کو گامڑی نامی گاؤں میں ان کا گھر جلایا گیا تو وہ بھی لقمہ اجل بن گئیں۔
مشرف
مشرف مصطفی آباد سے تعلق رکھنے والا ایک مزدور تھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایک ہندو جتھا اسے گھر سے گھسیٹ کر لے گیا اور مار مار کر ہلاک کر دیا۔ 35 سالہ مشرف کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
شعبان
شعبان پیشہ کے لحاظ سے ویلڈر تھا اور تعلق یو پی سے تھا۔ وہ کام پر گیا تو واپس نہ آیا۔ ان کے خاندان نے تلاش شروع کی تو 28 فروری کو سرکاری اسپتال سے شعبان کی لاش ملی۔
دلبیر سنگھ نیگی
20 سالہ نیگی مٹھائی کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ 25 فروری کو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد نیگی گودام میں سویا تو انتہا پسندوں کی جانب سے حملہ کردیا گیا، انکے خاندان کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے دلبیر سنگھ کو کاٹ کر جسم جلا دیا۔
سونو
32سالہ سونو کے خاندان کی جانب سے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا گیا ہے کہ سونو نے ہندو جتھے کی جانب سے ایک مسلمان کو قتل ہوتے دیکھا تو اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
نیتین کمار
نیتین کمار دہلی تشدد کا شکار بننے والے سب سے کم عمر فرد تھے، انکی عمر 15 برس تھی۔
بابو
بابو کی عمر30 برس تھی اور وہ رکشہ چلاتے تھے۔ 25 فروری کو وہ دوپہر کو گھر کھانا کھانے آ رہے تھے کہ انتہا پسند جتھوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
مبارک حسین
31 سالہ مبارک حسین دہلی کے موج پور کے علاقہ میں مزدوری کرتے تھے، 25 فروری کو پرتشدد واقعات کے دوران انہیں سینے میں گولی لگی جس سے وہ دم توڑ گئے۔
مونس
مونس کا تعلق یوپی کے ہردوئی ضلع سے تھا۔ وہ دہلی کے علاقہ مصطفی آباد میں رہتے تھے اور مزدوری کرتے تھے، وہ 25 فروری کو گھر سے باہر گئے تو واپس نہیں آئے۔ 28 فروری کو انکے گھر والوں کو اسپتال سے انکی لاش ملی۔
محسن علی
محسن علی کی دسمبرمیں شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی اہلیہ اور چھوٹی بہن کے ہمراہ رہ رہے تھے، وہ جنریٹرز کرائے پر دینے کا کام کرتے تھے، 25 فروری کو وہ کام کے سلسلہ میں گھر سے گئے مگر واپس نہ لوٹ سکے۔
مہتاب
مہتاب گھر کا سامان لینے کیلئے باہر گئے اور واپسی پر فسادیوں نے ان پر حملہ کردیا، وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور دم توڑ گئے، انکی عمر22 برس تھی۔
پریم سنگھ
پریم سنگھ دہلی کے علاقہ برجپوری میں اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، وہ رکشہ چلاتے تھے۔ 25 فروری کو وہ کام کے سلسلہ میں گھر سے گئے مگر واپس نہ لوٹ سکے۔ انکی لاش سرکاری اسپتال میں پائی گئی۔
الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے تشدد میں مرنیوالے ان افراد کے علاوہ دیگر افراد کی تفصیلات بھی شائع کی گئی ہیں جن میں ویر بھان، عقیل احمد، راہل ٹھاکر، مدثر خان، ذاکر سیفی، سلمان، عاقب، بھورے علی، سنجیت، انکیت شرما، پرویز، معروف، ایوب، فیضان، محمد فرقان، اشتیاق خان، محمد یوسف، محمد انور قیصر، جمیل قریشی، عاطف، شاہد خان، ونود کمار، ناریش کمار سینی، عرفان، رتن لال، مرسلین ملک، دینیش کمار، دیپک کمار، امان اقبال، عالم، ناظیم خان، شان محمد، الوک تیواری شامل ہیں۔
