پاکستان سمیت دنیا کے غریب ممالک کے سربراہان جب بھی بیمار پڑتے تھے وہ اپنے ملکوں میں ہیلتھ کیئر نظام بہتر کرنے کی بجائے قومی خزانے سے بیرون ملک علاج کرانے پہنچ جاتے تھے لیکن کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کے غریب ممالک کی حکمران اشرافیہ کو اپنے ہی ممالک کے اسپتالوں میں علاج پر مجبور کر دیا ہے، افریقہ اور ایشیاء کے غریب ممالک کے سیاست دانوں نے اپنے ملکوں کے جس نظام صحت کو دہائیوں سے نظرانداز کیے رکھا آج اپنی جان بچانے کے لیے اسی پر انحصار کرنا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔
غریب ممالک کی حکمران اشرافیہ بیرون ملک اپنے علاج پر عوام کی جیب سے لگائے جانیوالے سرمایہ کا استعمال ملک میں کرتی تو آج شاید ان ممالک کے اسپتالوں کی صورتحال کچھ بہتر ہوتی۔ 2016 میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے بیرون ملک علاج پر قومی خزانہ سے سوا تین لاکھ ڈالرز خرچ ہوئے، پاکستان میں ایسے اخراجات کی ان گنت مثالیں ہیں۔
افریقہ اور ایشیاء کے غریب ممالک کے اسپتالوں میں کورونا وبا سے لڑنے کیلئے حفاظتی سامان، وینٹی لیٹرز کی شدید کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان ممالک میں کورونا ترقی یافتہ ممالک کی طرح پھیل گیا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔
امیر ممالک لاکھوں وینٹی لیٹرز کے ساتھ بھی کورونا وبا سے نہیں لڑ پا رہے تو سینکڑوں کی تعداد میں وینٹی لیٹرز کے حامل غریب ممالک کیلئے بڑے پیمانے پر پریشانی پیدا ہوسکتی ہے۔ افریقہ کے غریب ملک سینٹرل افریقن ریپبلک کے پاس 50 لاکھ آبادی کیلئے صرف تین وینٹی لیٹرز ہیں۔
ان حالات میں نائجیریا کے ایک اخبار ”ڈیلی ٹرسٹ“ نے ایک کارٹون شائع کیا ہے جس میں ہیلتھ کئیر ورکرز ایک بیمار سیاست دان کو اٹھا کر ایک سرکاری اسپتال میں علاج کیلئے لے جا ر ہے ہیں۔ سیاست دان کی جانب سے چلا چلا کر کہا جا رہا ہے کہ آپ مجھے یہاں نہیں لا سکتے کیونکہ میں ایک سیاست دان ہوں۔ اس احتجاج پر ہیلتھ کئیر ورکرز بیمار سیاست دان کو بتا رہے ہیں کہ سر یہ بدحال اسپتال تو آپ ہی کا پراجیکٹ ہے۔
کورونا نے بیرون ملک علاج کا راستہ بند کر دیا
غریب ممالک کے زیادہ تر رہنما اکثروبیشتر علاج کیلئے بیرون ملک جاتے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے سلسلہ میں باہر ہیں۔ نائجیریا کے صدر محمد بوہاری صدر بننے کے بعد سے اب تک چار دفعہ علاج کیلئے بیرون ملک جا چکے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری بھی بیرون ملک علاج کراتے رہے ہیں۔ سابق آمر پرویز مشرف بھی بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں۔
پاکستان میں حکمران خاندانوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد جنہوں نے ملک میں اسپتال بنانے اور صحت کی دیگر سہولیات بہتر کرنے پر ترجیح نہیں دی انہیں خود بیرون ملک علاج کیلئے جانا پڑا اور انہوں نے آخری سانسیں بھی دیار غیر میں لیں۔
پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل اور پہلے صدر اسکندرمرزا نے زندگی کے آخری دن لندن جلاوطنی میں گزارے اور ہارٹ اٹیک سے اسی اجنبی شہر میں ہی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ ضیاء دور میں پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے محمد خان جونیجو بیمار ہوئے تو علاج کیلئے امریکہ گئے جہاں مارچ 1993 میں انکی وفات ہو گئی۔
پاکستان کے قائم مقام وزیراعظم رہنے والے سندھ کے سیاست دان غلام مصطفیٰ جتوئی کی وفات بھی لندن میں ہوئی۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کی زندگی کے آخری برس دبئی میں گزرے اور وہیں انکا انتقال ہوا۔
بیرون ملک علاج کیلئے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز بھی لندن سے علاج کراتی رہیں اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی حکمران اشرافیہ علاج کیلئے بیرون ملک رجوع کرتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق جب سونیا گاندھی کی جماعت بھارت میں اقتدار میں تھی تو وہ نیویارک علاج کرانے جاتی تھیں۔
بھارت میں گوا کے چار دفعہ وزیراعلیٰ رہنے والے منوہر پاریکر بھی علاج کیلئے بیرون ملک جاتے رہے۔ کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجایان بھی بیرون ملک علاج کرانے پر تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ کیرالہ کے سابق وزیرداخلہ بالاکرشن امریکہ میں علاج کیلئے جا چکے ہیں۔
اسی طرح اگر افریقہ کی بات کریں تو 37برس تک زمبابوے کے حکمران رہنے والے رابرٹ موگابے علاج کیلئے سنگاپور کے ایک اسپتال میں داخل رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔
صومالیہ کے سابق وزیراعظم نورحسن حسین لندن میں کورونا وائرس سے وفات پا چکے ہیں۔ انہیں صومالیہ کا بااثر وزیراعظم سمجھا جاتا ہے۔
کورونا وبا کے باعث دنیا کے بیشتر ممالک لاک ڈاؤن میں ہیں اور پروازیں بھی بند ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے صحت کا نظام کورونا وبا کے بوجھ تلے دب چکا ہے تو غریب ممالک کی حکمران اشرافیہ کو گریبان میں جھانک کر اپنے ملکوں میں صحت کے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے، امید کی جا سکتی ہے کہ کئی سیاست دان ایسا سوچ بھی رہے ہوں گے۔
