وفاقی کابینہ میں موجود سیاسی شخصیات توانائی کے شعبے کے معاملات، معاہدے کے تحت اپنے فرائض اور دیگر فنی صلاحیتوں سے ناواقف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت آئی پی پیز پر دباؤ ڈالے کہ وہ کپیسٹی پیمنٹ میں مکمل طور پر چھوٹ دیں یا پھر اس میں بڑی کمی لائیں۔
دوسری جانب ان منصوبوں سے منسلک اہلکاروں کا نقطئہ نظر سیاسی شخصیات سے یکسر مختلف ہے۔
عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کون ڈال رہا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے بتا دیا
کورونا وائرس سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالرز نقصانات کا خدشہ
وزارت تجارت کی نئی ہدایات، پاکستانی ایکسپورٹرز خوف کا شکار
سرکاری حکام اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ پسں منظر میں کیے گئے انٹرویوز سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں کسی قسم کی نرمی صرف اور صرف خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع ایک خبر کے مطابق نیپرا، جس نے حکومت کی منظور شدہ پالیسیوں کے تحت بجلی کے منصوبوں کے لیے ٹیرف کی منظوری دی، نے اب حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ تاخیر سے ادائیگیوں پر مارک اپ کے سلسلے میں مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔
پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے محصولات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنے اور حکومت کی تجاویز پیش کرنے کیلئے 30 آئی پی پیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو 16اپریل کو دو گروپس میں طلب کیا ہے۔
کل 16 اپریل کو پہلے گروپ میں جن 14 آئی پی پیز کے چیف ایگزیکٹوز کو صبح ساڑھے 11 بجے بلایا گیا ہے ان میں سی ای او کیپکو، حبکو، پاکجن، لالپیر، آلٹرن انرجی، فوجی کبیر والا پاور، حبیب اللہ کوسٹل پاور کمپنی، کوہ نور انرجی ، ٹی این جی لبرٹی پاور، روش پاکستان پاور ، سبا پاور، سدرن الیکٹرک پاور کمپنی، اچ پاور لمیٹڈ اور ڈیوس انرگن پاور کے چیف ایگزیکٹیوز شامل ہیں۔
دوسرے گروپ میں جن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو کل دوپہر 2 بجے بلایا گیا ہے ان میں اٹک جن، اینگرو انرجی، اٹلس پاور، سیف پاور، ہالمور، حب پاور (نارووال) لبرٹی پاور ٹیک، نشاط پاور، نشاط چونیاں، اوریئنٹ پاور، فاونڈیشن پاور، سیفائر، یو سی ایل-2 پاور، لاریب انرجی، پیٹرنڈ ہائیڈروپاور، گل پور ہائیڈروپاور پروجیکٹ، صدیق سنز انرجی اور لکی الیکٹرک شامل ہیں۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے شدید معاشی چیلنجز اور بے پناہ مالی دباؤ کا سامنا ہے، حکومت محمدعلی کی سربراہی میں قائم کردہ رپورٹ کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کیلئے آئی پی پیز پر دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ ۔
آئی پی پیز کا موقف ہے کہ انھوں نے ایسے وقت میں پاکستان کی ترقی کے لیے خون پسینہ ایک کیا جب اس ملک میں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر یقینی معیشت کو استحکام بخشا۔
آئی پی پیز کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ناجائز سختی کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول اور معاشی ترقی کے امکانات کو بڑا دھچکا لگا اور اگر ہم ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے تو ہمیں ویسے ہی منفی نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔
