امریکہ میں کورونا متاثرین کے لیے شروع کئے گئے ریلیف فنڈ سے جہاں ایک عام امریکی 12 سو ڈالرز کا چیک وصول کرے گا وہیں سالانہ 10 لاکھ ڈالر کمانے والے امیر لوگوں کو اوسطاً 17 لاکھ ڈالر کا چیک ملے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 22 سو ارب ڈالرز پر مشتمل کورونا وائرس ایڈ، ریلیف اینڈ اکنامک سیکیورٹی ایکٹ (کیئرز) کا مقصد ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہے جنہیں معاشی طور پر اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں سیاہ فام زیادہ کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟
امریکہ میں کورونا کیوں پھیلا؟ نئے حقائق سامنے آ گئے
تاہم اس ایکٹ میں ایک شق ایسی رکھ دی گئی ہے جس کے باعث سالانہ 10 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کمانے والے لوگوں کو 17 لاکھ ڈالر کا چیک ملے گا، یہ رقم وصول کرنے والوں کی تعداد 43 ہزار ہے۔
فوربز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ میں ایک ایسی شق ڈال دی گئی ہے جو امیر لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دے گی۔
امریکہ کے دو سینیٹرز، شیلڈن وائیٹ ہاؤس اور لائیڈ ڈاگٹ نے ریلیف فنڈ کا تجزیہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ امرا کو دی جانے والی رقم پورے امریکہ کے اسپتالوں، تمام ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو دی گئی فنڈنگ سے زیادہ ہے۔
سینیٹر ڈاگٹ نے کہا کہ کسی نے اس بحرانی دور سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دولتمند افراد کے لیے خطیر رقم مختص کر دی ہے، فائدہ اٹھانے والوں میں صدر ٹرمپ کا خاندان بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں موجود خامی ایسی ہے جس سے متوسط طبقہ فائدہ اٹھانے سے محروم ہے۔
اس تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس بینیفٹس کی پالیسی کا 82 فیصد فائدہ ان 43 ہزار ٹیکس دہندگان کو ہو گا جو سالانہ دس لاکھ ڈالر کماتے ہیں۔
