اب تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کورونا وائرس مردہ جسم سے زندہ انسانوں کو منتقل نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک مردہ جسم میں یہ وائرس زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
تاہم اب تھائی لینڈ میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جس نے سائنسدانوں کے اس خیال کی نفی کر دی ہے۔
جرنل آف فورینسک اینڈ میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ بینکاک میں پیش آیا ہے جس میں فرانزک ٹیم کے ایک رکن کو مردہ انسان سے کورونا وائرس منتقل ہوا جس سے اس کی ہلاکت ہو گئی۔
دنیا کا واحد ملک جہاں کورونا کے تمام مریض صحتیاب ہو گئے
کورونا وباء کے حوالے سے سویڈن کی حکمت عملی نے دنیا کو حیران کردیا
کورونا وبا کے دوران پاکستانیوں نے گوگل پر کیا سرچ کیا؟
جریدے کے مطابق ابھی تک کورونا وائرس رکھنے والی لاشوں کی تعداد سامنے نہیں آئی کیونکہ تھائی لینڈ میں مردہ اجسام پر کورونا کا ٹیسٹ کرنے کا رواج نہیں ہے لیکن اب فارینزک یونٹس کو بھی اسی طرح جراثیم کش ادویات کے ذریعے صاف کرنا پڑے گا جیسا کہ صحت سے متعلقہ آپریشن رومز میں کیا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وبا سب سے پہلے پھیلنا شروع ہوئی لیکن جنہوں نے مستعدی سے اس پر قابو پایا، اب تک ڈھائی ہزار سے زائد کورونا کے مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے 14 سو کے قریب صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پروفیسر آف پیتھالوجی انگلیک کورتھلز کا کہنا ہے کہ اب صرف میڈیکل ایگزامینرز ہی نہیں بلکہ مردہ خانوں میں کام کرنے والوں اور تدفین کرنے والے عملے کو بھی غیرمعمولی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔
ابھی تک سائنسدان یہ معلوم نہیں کر سکے کہ کورونا وائرس کتنی دیر میں مردہ اجسام میں رہ سکتا ہے۔
اس سے قبل ایبولا وائرس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ مردہ اجسام سے زندہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ہیضے سے مرنے والوں کے جسم سے بھی ان بیماریوں کے جراثیم منتقل ہوتے ہیں۔
