کورونا وائرس وباء کے دوران دوسرے ممالک کے برعکس سویڈن میں معمولاتِ زندگی نارمل طریقے سے رواں دواں ہیں، جب پوری دنیا کورونا کے خوف سے گھروں میں مقید ہے اس وقت سکینڈے نیوین ممالک کی سب سے بڑی معیشت سویڈن کے دار الحکومت سٹاک ہوم میں بار، کیفے، ریسٹورنٹس کھلے ہیں اور لوگ بازاروں میں بغیر کسی حفاظتی ماسک کے گھومتے نظر آتے ہیں۔
باقی دنیا کے اکثر ممالک مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں سویڈن کے اندر پرائمری سکولوں میں بچوں کی کلاسز اب بھی جاری ہیں اور چہروں پر معصومیت سجائے بچے کھیل کھیلنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ دوسری جانب سویڈن کے وزیر اعظم سٹیفن لوفن کے ہینڈز آف ماڈل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دنیا میں ہدفِ تنقید بھی بنایا جا رہا ہے۔
سویڈن حکومت کی ایجنسیوں اور پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ رضا کارانہ سماجی دوری کے اقدامات مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ سے زیادہ موثر ہیں۔ سویڈن حکومت کا موقف ہے کہ جب کورونا جیسی وباء کیخلاف لمبے عرصے تک لڑنا ہے تو ان کا ماڈل باقی دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔
دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کےخلاف کامیابی حاصل کی
بلومبرگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق سویڈن میں کورونا وباء سے ہونیوالی ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں جس کے باعث حکومت پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے ممالک میں لاک ڈاؤن پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، سویڈن میں سکول، بار، کیفے، ریسٹورنٹس عوام کیلئے کھلے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نے سویڈن کی جانب سے لاک ڈاؤن کو نظر انداز کرنے کے فیصلے کے تنازعہ کو بڑھا دیا ہے۔
سویڈن کے وزیراعظم کی جانب سے بھی یہ بیان اب سامنے آیا ہے کہ آنیوالے دنوں میں سخت اقدامات کی ضرور ت پڑ سکتی ہے۔ منگل کے روز سرکاری بیان کے مطابق سویڈن کے 1033 شہریوں کی کوویڈ 19 کی وجہ سے اموات واقع ہوچکی ہیں ۔
یہ صورتحال کسی بھی دوسرے نارڈک ممالک سے زیادہ خراب ہے جس کے ساتھ سویڈن عام طور پر اپنا موازنہ کرتا ہے۔ سویڈن میں شرح اموات فن لینڈ سے 10 گنا، ناروے سے چار گنا جبکہ ڈنمارک سے دوگنا زیادہ ہیں۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سویڈن کے موجودہ حالات کے پیش نظر 22 ماہرین نے حکومت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے، انہوں نے مقامی اخبار کے ایک مضمون میں حکومت کو یہ رائے دی ہے کہ موجودہ حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سویڈن حکام کو کورونا وباء کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تیزی سے بدلنا ہوگی۔
ماہرین نے لکھا ہے کہ فن لینڈ کی طرح سویڈن کو بھی اسکول اور ریسٹورنٹس بند کرنے چاہئیں، تمام کام کرنیوالے افراد ضروری طور پر مناسب حفاظتی سازو سامان پہنیں، جو مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ان کی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ ہونی چاہیے، اینٹی باڈیز ٹیسٹ کے بعد جو افراد بہتر قوت مدافعت کے حامل ہیں وہ کام پر واپس جاسکتے ہیں۔
