اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا ہے کہ آج سے پاکستان کے 6 ایئرپورٹ کھول دیے گئے ہیں تاکہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جا سکے۔
وزیراعظم کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 4 اپریل کو ہم نے آہستہ آہستہ فضائی حدود کھولنا شروع کیں اور اسلام آباد ایئرپورٹ سے پروازیں شروع کر دی تھیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 20 اپریل کے بعد 6 ایئرپورٹ مسلسل کھلے رکھیں گے اور ہر ہفتے چھ سے سات ہزار پاکستانی واپس لا سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
معید یوسف کا کہنا تھا کہ ہم نے 21 مارچ کو اپنی فضائی حدود بند کی تھیں تاکہ اس دوران ہم صوبوں کے ساتھ مل کر ان کی اسکریننگ اور قرنطینہ کا انتظام کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 35 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں، خلیجی ممالک میں کئی لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں، کچھ لوگوں کے ویزوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے، کئی افراد قید سے رہائی کے بعد وطن آنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے زائرین ایران میں موجود ہیں، انہیں بھی واپس لانا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ان ممالک کے ساتھ تعاون اور لیبر تعلقات کی ازسرنو تشکیل کا سوچ رہی ہے جنہوں نے پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای حکومت مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے جن میں ایسے ممالک سے نئی بھرتیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور کوٹا سسٹم لانا شامل ہے۔
ایمریٹس کی نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق مزید امکانات میں باہمی یادداشت کے ان معاہدوں کو معطل کرنا بھی شامل ہے جو یو اے ای کی وزارت ہیومن ریسورس نے ان ممالک کے متعلقہ حکام سے کیے ہیں۔
