لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے شہریوں کے لیے وفاق اور سندھ حکومت یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے لیے مشترکہ طریق کار وضع کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کی خبر کے مطابق صوبائی آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے محکمہ قانون سے رائے لی جائے گی جس میں 250 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو مکمل طور پر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی پر جبکہ 350 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بل کی کل ادائیگی پر 75 فیصد رقم کی رعایت جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
9 اپریل 2020 کو پاور ڈویژن نے رات گئے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وفاقی اداروں کے ذریعے فراہم کردہ بجلی اور گیس کے بل وفاقی دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور صوبائی حکومت ایسے معاملات پر قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں۔
حکومت سندھ کا بجلی کے بل معاف کرنے کا اعلان، وفاقی حکومت کا شدید ردعمل
عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کون ڈال رہا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے بتا دیا
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے مارچ میں وفاقی حکومت کو ایک خط لکھا گیا جس میں انھوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وہ سندھ کی عوام کو ریلیف فراہم کریں۔
10 اپریل 2020 کو سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے بھی چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ کو خط لکھا جس میں انھوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام پر وفاقی حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا۔
خط میں کہا گیا کہ ہمیں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ سندھ کی حکومت نے ایک آرڈیننس تیار کیا ہے جس کے تحت گھریلو، رہائشی اور تجارتی صارفین کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر مراعات دی جائیں گی۔
خط کے مطابق میڈیا پر نشر کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ 250 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بلوں سے مکمل استشنی حاصل ہو گی جبکہ 350 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 70 فیصد بلوں کی ادائیگی سے استشنی حاصل ہو گی۔
پاور سیکرٹری نے مزید لکھا کہ بجلی سے متعلق معاملات وفاقی قانون سازی اور خصوصی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صوبائی حکومت کو فوری طور پر اس آرڈیننس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔
پاور ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کروونا سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے پہلے ہی ایک بہت بڑے ریلیف پیکج کا آغاز کر چکی ہے۔
سندھ حکومت صارفین کو ریلیف کی فراہمی کے لیے جوکچھ کرنا چاہتی ہے وہ اسے وفاقی حکومت کو مناسب فورم پر مشاورت کیلئے ارسال کرے۔
سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ یوٹیلیٹی بلز کے متعلق قانون سازی کا اختیار وفاق کے پاس ہے، ہم نے مشورہ دیا ہے اور اب یہ وفاقی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب صوبے بھر میں لاک ڈاون کے باعث کوئی تجارتی سرگرمیاں نہیں تو پھر عوام کہاں سے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آرڈیننس محکمہ قانون سے مشاورت کے بعد صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت کو بھی سفارشات پیش کی جائیں گی۔
