کورونا وباء کی وجہ سے ایک طرف بہت سے لوگوں کو کھانے کیلئے کچھ دستیاب نہیں تو دوسری طرف امریکی کسان وسیع پیمانے پر کھانے کی تازہ اشیاء ضائع کر رہے ہیں۔
ریستوران، ہوٹل اور اسکول بند ہونے کے باعث امریکہ میں کسانوں کی تازہ سبزیوں، دودھ اور انڈوں کی خریداری کم ہوچکی ہے اور کسان ان اشیاء کو ضائع کرنے پر مجبور ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالرز میں بتائی جا رہی ہے۔
ڈیری فارمرز آف امریکہ کے مطابق کسان روزانہ لگ بھگ 37لاکھ گیلن دودھ ضائع کر رہے ہیں۔ اسی طرح ”سینڈرسن فارمز“ کی جانب سے ہر ہفتہ لگ بھگ ساڑھے 7 لاکھ انڈے توڑ کر ضائع کئے جا رہے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بہت سے کسانوں کی جانب سے کھانے کی تازہ اشیاء فوڈ بینکوں کو عطیہ کی گئی ہیں مگر خیراتی اداروں کے پاس اتنے ریفریجریٹرز اور رضاکار نہیں کہ کسانوں کی سب اشیاء کو سنبھال سکیں۔
کیا دنیا عالمی قحط سالی کی جانب بڑھ رہی ہے؟
کیا کورونا وبا سرمایہ دارانہ نظام کیلئے خطرہ ہے؟
کورونا وباء کے باعث بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی، ماہرین معاشیات
مزید براں سبزیوں کی کٹائی، پروسسنگ اور فوڈ بینکوں یا ضرورت کی جگہ تک ان کی ترسیل پہلے ہی مالی نقصان اٹھانے والے کسانوں پر مزید مالی بوجھ کے مترادف ہے۔
کسانوں کے مطابق وباء کی صورتحال میں کھانے کی ان اشیاء کو برآمد کرنا بھی مشکل اور غیر منافع بخش ہے۔ غیر ملکی خریدار بھی وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
اخبار کے مطابق کورونا وبا کے دوران کسان سیکھ رہے ہیں کہ امریکی ریستورانوں میں شوق سے کیا کھاتے ہیں اور اب قرنطینہ ہونے کے دوران جب انہیں گھروں میں خود پکانا پڑ رہا ہے تو وہ کیا کھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کسانوں کو اب اس بات کا تجربہ ہورہا ہے کہ ریستورانوں میں امریکی سبزیوں کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔
امریکہ میں پیاز کے کاشت کار شے مائرز نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ لوگ گھروں میں پیاز کا استعمال کم کر رہے ہیں۔ انہوں نے خندقیں کھود کر ان میں اپنے پیاز گلنے سڑنے کیلئے پھینک دیے ہیں۔
کورونا وبا نے امریکہ میں فوڈ بینکوں کے رضاکاروں کی تعداد میں بھی کمی کر دی ہے جس کے باعث ان کی لوگوں کو سبزیاں اور پھل پیش کرنے کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے۔
کسانوں کے پاس کھانے کی تازہ اشیاء کو لمبے عرصہ تک اسقدر وسیع مقدار میں محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں، ان کے ریفریجریٹر اور اسٹورز کب کے بھر چکے ہیں، باقی سب ضائع کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈیری کی صنعت میں ضائع کی جانیوالی اشیاء کی مقدار بھی حیران کن ہے۔ امریکہ میں ڈیری کی صنعت کے بڑے گاہکوں میں اسکول اور کافی کی دکانیں شامل ہیں۔ انٹرنیشنل ڈیری فوڈز ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں اس وقت دودھ کی سپلائی کا 5 فیصد ضائع کیا جارہا ہے۔ اگر سرگرمیاں اسی طرح محدود رہیں تو یہ ضیاع آنیوالے چند دنوں میں دگنا ہو سکتا ہے۔
اخبار کی جانب سے دودھ کے ضیاع کی صورتحال بارے شمالی اہائیو میں موجود ”ہارٹ شو ڈیری فارم“ بارے بتایا گیا ہے جسے دودھ خریدنے والے پروسسنگ پلانٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ کل سے آپ کے فارم کا دودھ نہیں لے رہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود پہلے والا دودھ فروخت نہیں ہوا اور مزید رکھنے کی جگہ نہیں رہی۔
پروسسنگ پلانٹ کے جواب مل جانے پر فارم کی جانب سے ذخیرہ شدہ 31 ہزار پاؤنڈ دودھ ضائع کر دیا گیا۔
