چاڈ کی ایک جیل میں قید دہشت گرد گروہ بوکوحرام کے 44 مشتبہ افراد مردہ پائے گئے ہیں، انہیں حالیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
چاڈ کے چیف پراسیکیوٹر یوسف ٹام نے قومی ٹیلی ویژن پر بتایا کہ بوکو حرام سے تعلق رکھنے ان 44 افراد کو ممکنہ طور پر زہر دیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں سے 4 کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی جس میں ان کے جسم میں ایسے مواد کی موجودگی کے آثار ملے ہیں جس سے بعض افراد کی حرکت قلب بند ہو جاتی ہے جبکہ دیگر کا سانس رک جاتا ہے۔
کینیڈا کی سیاست میں بھارتی دخل اندازی کا تہلکہ خیز اسکینڈل منظرعام پر
نائیجیریا کی فوج نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران 18 افراد کو گولی مار دی
مارچ میں لیک چاڈ میں سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپ میں بوکوحرام کے 58 اراکین گرفتار ہوئے تھے، ہلاک ہونے والے بھی اسی گروپ کا حصہ تھے اور ایک ہی سیل میں بند تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چیف پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مردہ حالت میں ملنے والے 40 افراد کو دفن کر دیا گیا جبکہ چار افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔
ایک سیکورٹی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ 58 قیدیوں کو ایک ہی سیل میں رکھا گیا تھا اور انہیں دو روز سے کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں دیا گیا۔
چاڈ کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ محمد نور احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ 58 افراد کو ایک ہی سیل میں تین روز تک بھوکا پیاسا رکھا گیا تھا۔
حکومت نے ان الزامات کی تردید کر دی ہے، چاڈ کے وزیرانصاف کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ کسی قسم کا برا سلوک نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے معدے سے زہریلا مواد ملا ہے، ابھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ اجتماعی خودکشی تھی یا کچھ اور تھا۔