کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل کمی کے بعد ساؤتھ کوریا کے باشندے اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں جس کے باعث شاپنگ مالز، پارکس، گولف کورسز اور چند ریسٹورنٹس بھر لوگوں سے بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔
کئی کمپنیوں نے حالیہ ہفتوں میں ملازمین کے لیے گھر سے بیٹھ کر کام کرنے کی سہولت ختم کر دی ہے جبکہ دیگر نے کام کرنے کے اوقات میں نرمی اور آمنے سامنے کی میٹنگز کم کر دی ہیں۔
کورونا وبا پر قابو پانے کا صلہ: جنوبی کوریا کی حکمران جماعت بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئی
جنوبی کوریا کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی میں دنیا کے لیے چار اہم سبق
ہفتہ وار چھٹی کے دن پارکس، پہاڑیاں اور گولف کے میدان لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس میں بھی رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
اگرچہ جنوبی کوریا کی حکومت نے سماجی فاصلوں کی پالیسی میں 16 دن کی توسیع کر دی ہے لیکن مذہبی اور کھیلوں کے اجتماعات کے لیے اس پالیسی میں کچھ نرمی کر دی گئی ہے۔
اس وقت جنوبی کوریا ایشیاء کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور یہاں کورونا کے روزانہ 20 سے کم کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر بیرون ملک سے آنے والے افراد کے ہیں۔
کوریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (کے سی ڈی سی) نے سوموار کو 13 نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں جبکہ اتوار کو یہ تعداد صرف 8 تھی، کورونا وبا کے عروج پر سب سے زیادہ کیسز کی تعداد 909 تھی۔
جنوبی کوریا کے صحت کے حکام نے عوام سے چوکنا رہنے کا کہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کورونا کے نئے کلسٹر دوبارہ بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔