ایمریٹس فتویٰ کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ تمام صحتمند افراد پر روزہ فرض ہے لیکن کورونا وبا کی وجہ سے اگر طبی عملے کو قوت مدافعت میں کمی یا مریضوں کے مرنے کا خدشہ ہو تو انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ رمضان اور عید الاضحیٰ پر لوگوں کو سماجی فاصلے کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔
کورونا وبا جاری رہی تو تراویح اور عید نماز بھی گھر پر ادا کی جائے، سعودی مفتی اعظم
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے عبادت گاہوں میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔
یو اے ای میں اب تک کورونا کے 6،781 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اس وبا سے اب تک 41 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، سعودی عرب میں اس وقت تک 26 ہزار 6 سو افراد کورونا کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 160 تک پہنچ چکی ہے۔
کئی خلیجی ممالک نے پروازوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور زیادہ تر عوامی مقامات بند کر کے کرفیو عائد کیا ہوا ہے۔
ان ممالک میں معمولی آمدنی والے مزدوروں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ زیادہ ہے، یہ لوگ چھوٹی جگہوں پر بڑی تعداد میں اکٹھے رہتے ہیں۔
کچھ خلیجی ممالک ایسے افراد کو ان کے اپنے ممالک بھیجنے کے لیے پروازوں کی اجازت دے رہے ہیں جن کی ملازمت ختم ہو چکی ہے یا جنہوں نے چھٹی لی ہوئی ہے۔
یو اے ای کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اتوار کے روز انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں خوراک کے ایک کروڑ پارسل ان طبقوں کو دیے جائیں گے جو کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔