کورونا وبا کی آڑ میں حکومت کے آمرانہ اقدامات کے خلاف اسرائیلی شہریوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور ہزاروں افراد گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں 2 ہزار سے زائد مظاہرین نے 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے احتجاج کیا، اسرائیل میں حکومت کی کورونا وائرس اقدامات کے خلاف ”بلیک فلیگ“ نامی مظاہرے گزشتہ ماہ مارچ میں شروع ہوئے تھے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس اقدامات میں شہریوں کے فون ٹریک کرنا بھی شامل ہے جنہیں احتجاج کرنے والے غیرجمہوری قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل کا راسخ العقیدہ طبقہ کس طرح کورونا وائرس پھیلا رہا ہے؟
سیاسی مخالفین کوکورونا سے مرنے کی بددعا دینے پر اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا تنقید کی زد میں
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے غیرجمہوری بل منظور کرنا شروع کر دیے تھے۔
وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کی جمہوریت مخالف قانون سازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مظاہرین میں شامل ییش اتید کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں جمہوریت کو قتل کرنے کے لیے پارلیمنٹ پر ٹینک نہیں چڑھانے پڑتے بلکہ جمہوریتیں پارلیمنٹ کے اندر ہی مر جاتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف اب مظاہرے نہ کئے تو بہت تاخیر ہوسکتی ہے۔
مظاہرین کی جانب سے مزید کہا گیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو پر کرپشن الزامات میں فردجرم عائد ہو چکی ہے اس لیے انہیں پولیس کا سربراہ، سرکاری پراسیکیوٹر، اٹارنی جنرل اور ججوں کی تعیناتی کا کوئی اختیار نہیں۔
گزشتہ ہفتہ اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو کے بیٹے کی جانب سے ٹویٹر پر حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنیوالوں کے کورونا سے مرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا جس کی نیتین یاہو کو مذمت کرنا پڑی تھی۔
کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں حکومتی پالیسیوں کو عوام گہر ی نظر سے دیکھ رہی ہے اور اس پر ردعمل بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایک طرف جہاں جنوبی کوریا کے باشندوں نے وبا کے خلاف اپنی حکومت کی بہترین حکمت عملی پر اسے بھاری اکثریت سے الیکشن جتوا دیا ہے تو دوسری طرف اسرائیل میں نیتین یاہو کی حکومت کے خلاف ہزاروں افراد گھروں سے باہر نکلے ہیں۔
یاد رہے اسرائیل میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 13,491 ہے جبکہ اب تک اس سے ہونیوالی اموات 172 ہیں۔