بھارت میں لاک ڈاؤن غریب طبقے کے لیے تباہی و بربادی لایا ہے اور میڈیا کے ذریعے مسلسل دردناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
ایسے ہی ایک المناک واقعے میں ریاست چھتیس گڑھ کی 12 سالہ لڑکی گھر پہنچنے کے لیے پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی۔
12 سالہ جمالو دو ماہ قبل اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ پہلی مرتبہ کمانے کی غرض سے تلنگانہ ریاست میں مرچوں کے باغ میں کام کے لیے گئی تھی جہاں سے واپسی پر والدین کو اس کی میت گھر لانا پڑی۔
لاک ڈاؤن کے باعث غاروں میں چھپ جانے والے سیاح برآمد
بھارت میں لاک ڈاؤن کے نتائج، بھوک نے انسان اور جانور ایک برابر کر دیے
سرکاری ذرائع کے مطابق جمالو مکدم 13 دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ مسلسل تین دن تک سفر کرتی رہی اور 100 کلومیٹر کے اس سفر کے دوران تھکاوٹ اور الیکٹرولائٹس کی کمی کے باعث اپنے آبائی علاقہ بجاپور سے 11 کلومیٹر دور اس کی موت واقع ہو گئی۔
وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، چھتیس گڑھ کی قبائلی آبادی کی اکثریت ہر سال تلنگانہ میں مرچوں کے باغات میں کام کرنے جاتی ہے جو ان کی روزی کا بڑا ذریعہ ہے۔
جمالو کے والد اندو رام نے بتایا کہ آخری مرتبہ اس نے اپنی بیٹی کے متعلق یہی سنا کہ وہ تلنگانہ کے گاؤں پیررو سے روانہ ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق جب لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کی گئی تو کام نہ ہونے کی وجہ سے پورے گروپ نے گھر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
گھر واپسی کا سفر کرنیوالے 13 افراد کے گروپ میں تین بچوں سمیت 8 خواتین شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق جمالو 18 اپریل کی صبح 8 بجے چل بسی جب وہ چھتیس گڑھ کے ضلع بجاپور کی سرحد پر پہنچ گئے تھے۔
دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا
نریندر مودی کا لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان
گروپ اس واقعہ سے متعلق جمالو کے والدین کو اطلاع نہ دے سکا کیونکہ ان میں صرف ایک شخص کے پاس موبائل تھا لیکن مسلسل سفر کی وجہ سے اس کی بیٹری ختم ہوچکی تھی۔
جب یہ گروپ بھنڈر پور گاؤں پہنچا تو وہاں گاؤں کے ایک شخص سے موبائل لے کر جمالو کے والدین کو اس کی موت کی اطلاع دی گئی۔
اس واقعہ کے فوری بعد بھنڈر پور میں پولیس اور صحت سے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا۔
بجاپور ضلع کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر بی آر پجاری کے مطابق جب انہیں اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ فوراً وہاں پہنچے لیکن انہیں سفر کرنیوالا گروپ نہ مل سکا۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں میڈیکل ٹیم نے انہیں بھنڈرپور گاؤں کے قریب ٹریس کر لیا جہاں وہ جمالو کی میت لے جا رہے تھے۔ اس گروپ میں شامل دیگر افراد کو قرنطینہ سنٹر منتقل کیا گیا۔
اتوار کی شام 32 سالہ اندورام اور ان کی 30 سالہ اہلیہ اپنی بیٹی کی میت لینے کے لیے پہنچ گئے۔ ڈاکٹر پجاری کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ بچی تھکاوٹ اور الیکٹرولائٹس کی کمی کی وجہ سے چل بسی۔
ان کا کہنا ہے کہ 13 افراد پر مشتمل یہ گروپ گزشتہ 3 دن سے 100 کلومیٹر سفر کر چکا تھا، یہ اس دوران جنگلوں سے بھی گزرے اور ایک مقام پر بچی گر گئی۔
جمالو کے انتقال سے ایک دن بعد اس کا کورونا ٹیسٹ آیا جس کا رزلٹ نیگٹو تھا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وزیر اعلیٰ چھتیس گڑھ بھوپیش باگھل نے جمالو کے خاندان کے لیے ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔