پاکستان کرکٹ کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ وسیم اکرم اگر میچ فکسنگ کے لیے مجھ سے رابطہ کرتے تو یا میں انہیں تباہ کر دیتا یا مار دیتا۔
کرکٹ اڈکشن ویب سائیٹ کے مطابق 2011 سے پاکستان کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے شعیب اختر نے اعتراف کیا کہ وسیم اکرم نے ان سے کبھی میچ فکسنگ کی بات نہیں کی۔
1997ء سے 2011ء تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 46 ٹیسٹ اور 163 ون ڈے میچ کھیلنے والے فاسٹ بالر اپنے متنازعہ بیانات کے باعث خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔
عرفان پٹھان کے والد کراچی میں جاوید میانداد پر ناراض کیوں ہو گئے؟
پاک بھارت کرکٹرز کی دوستیاں اور دشمنیاں، شاہد آفریدی کی زبانی
حال ہی میں انہوں نے پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کی ون ڈے سیریز منعقد کرانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ کورونا وباء کے حوالے سے فنڈز اکٹھا کیا جا سکے، اس تجویز پر بھی بہت شور مچا رہا۔
گزشتہ سال شعیب اختر کے ایک بیان نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا جب انہوں نے بیان دیا کہ وہ اپنی کرکٹ کے دنوں میں 21 کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہے ہوتے تھے کیونکہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ کون سا ساتھی میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔
تاہم شعیب اختر نے وسیم اکرم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ 90 کی دہائی کے میچوں کی کچھ ویڈیوزدیکھ کر حیران رہ گئے کہ کس طرح اس لیجنڈ کرکٹر نے مایوس کن صورتحال کے وقت ٹیم کو مشکل سے نکالا۔
کورونا وبا کی وجہ سے کئی ممالک کے کرکٹ بورڈز دیوالیہ ہونے کے قریب
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وسیم اکرم ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کی وکٹیں لے کر پچھلے نمبر پر کھیلنے والوں کو ان کے لیے چھوڑ کر ان کا تحفظ کیا کرتے تھے۔