کئی دنوں سے اپنی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے امریکی امیگریشن جیل سے رہا ہونے کی التجا کرنے والے ایرانی سائنسدان کورونا وبا کا شکار ہو گئے۔
میٹیریلز سائنس اور انجینئرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر سیروس عسگری نے مارچ میں حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر بات کی تھی، انہیں اس ہفتے لوزیانا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) جیل کے اندر الگ تھلگ سیل میں رکھا گیا تھا۔
منگل کو ان کے وکلاء کو معلوم ہوا کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت تھا، فون پر گفتگو کرتے ہوئے عسگری کو کھانسی ہوئی اور انہوں نے کہا کہ انہیں کئی دن سے بخار ہے۔
امریکی جیل میں قید ایرانی سائنسدان کے دل دہلا دینے والے انکشافات
امریکی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، کورونا وائرس جیلوں تک پہنچ گیا
سائنسدان اور انکے اہل خانہ انہیں ہسپتال میں منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جہاں ان کی مناسب دیکھ بھال ہو سکے۔
59 سالہ عسگری نے فون پر شدید کھانستے ہوئے بتایا کہ انہیں جلد از جلد ہسپتال منتقل کرنے کا جواز موجود ہے، مجھے ان پر اعتماد نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں اگر کچھ ہوتا ہے تو اس کے سد باب کے لیے فوری ایکشن نہیں لیا جاتا، میں اس گندی جگہ کو چھوڑنے کو ترجیح دونگا۔
جب انہوں نے گنجائش سے زیادہ بھری آئس جیل میں صفائی کی ابتر حالت اور بدترین انتظامات کے باعث کورونا وبا کے پھیلاؤ کے خدشے کا اظہار کیا تھا تو عالمی سطح پر شور مچا تھا۔
سانس کی تکلیف میں مبتلا پروفیسر گذشتہ سال مقدمے میں بری قرار دیے گئے لیکن آئس حکام نے انھیں رہا کرنے یا ایران واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں کچھ امریکی قانون سازوں اور انسانی حقوق کے گروہوں کیساتھ ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عسگری کو لوزیانا کے ون اصلاحی مرکز کے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید رکھا گیا ہے۔ لوزیاناریاست کورونا وائرس سے شدید متاثرہ ہے۔
آئس حکام نے عسگری کے وکلاء کو کورونا کی تصدیق بارے بتایا تاہم سائنسدان کے مطابق انہیں کورونا کی تصدیق کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا اور اس خبر کی اطلاع انہیں اپنے خاندان اور وکلاء سے فون کے ذریعے ملی۔
انہوں نے کہا کہ طبی عملہ روزانہ دو سے تین بار معائنہ کرتا ہے اور یہی بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک ٹیسٹ رپورٹ نہیں آئی۔
ان کے وکیلوں کے مطابق آئس حکام نے بتایا کہ عسگری کو اگر سانس لینے میں شدید مشکل پیش آئے گی تو انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
آئس کے ایک ترجمان برائن کوکس نے بتایا کہ ون جیل میں کورونا کے دو کیسز ہیں تاہم عسگری کے بارے میں سوال پر جواب دینے سے انکار کر دیا۔
پروفیسر عسگری نے نئے آنے والے قیدیوں کو بغیر اسکریننگ اور قرنطینہ کے پہلے سے موجود قیدیوں کے ساتھ رکھنے پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا۔
وکلاء کے مطابق آئس نے انہیں بتایا کہ عسگری کو صرف اس صورت میں اسپتال بھیجا جائے گا اگر وہ سانس لینے کی جدوجہد کر رہا ہو۔
ایک آئس کے ترجمان برائن کاکس نے کہا کہ ون میں دو تصدیق شدہ کوویڈ 19 واقعات ہوئے ہیں لیکن انہوں نے عسگری کے بارے میں سوالات کے جواب دینے سے انکار کردیا۔
پروفیسر بار بار اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ مسلسل نئے قیدیوں کو جیل میں لایا جا رہا اور انہیں پہلے سے قید لوگوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
پروفیسر عسگری تین بچوں کے باپ ہیں، ان کے دو بچے امریکہ میں مقیم بھی ہیں۔
2017 میں ان پر اوہائیو کی ایک یونیورسٹی میں کام سے متعلق دھوکہ دہی اور تجارتی راز کی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا، طویل آزمائش کے بعد نومبر 2019 میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔
چونکہ امریکہ نے انکا اصلی ویزا منسوخ کردیا تھا اس لیے انہیں آئس نے تحویل میں لے لیکر نظربند کر دیا۔ کورونا وبا کے بعد انہوں نے کوشش کی کہ انہیں ایران منتقل کر دیا جائے یا امریکہ میں اپنے کنبے کے ساتھ رہنے دیا جائے مگر ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
اب اگر انہیں رہا کیا گیا تو تشخیص کیوجہ سے فوری طور پر پرواز میں جانے سے شاید قاصر ہوں۔
عسگری نے اپنے ٹیسٹ کے نتائج جاننے کے بعد منگل کو کہا کہ اس مہلک وبا کے پھیلنے کے دوران لوگوں کو اجتماعی طور پر جیلوں میں بند کرنا بالکل غلط ہے۔
عسگری نے کہا کہ وہ یہاں نہا بھی نہیں سکتے اور انہیں ایک پیالہ پانی دیا گیا جس سے وہ اپنا سر دھو سکتے ہیں۔
سیروس عسگری نے کہا کہ انہوں نے تازہ پھلوں کی بھی درخواست کی جو ایک مہینے سے نہیں کھائے۔
انہوں نے اور دیگر زیر حراست افراد نے گذشتہ ماہ گارڈین کو بتایا تھا کہ ان میں سے بہت سے افراد نے خود کو ڈی پورٹ کرانے کی کوشش کی کیونکہ وہ کورونا وبا سے بہت خوفزدہ ہیں۔
متعدد افراد نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے تمام صفائی کرنے کے ذمہ دار ہیں اور وہاں ایک ہی شاور اور44 افراد کے لیے صرف دو لیٹرین ہیں اور انکے سونے کے بستر 2 فٹ کے فاصلے پر ہیں۔
عسگری کے کنبہ کے ساتھ کام کرنے والے ایک وکیل مہرنش یزدانیار نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ ہو رہا ہے یہ تباہ کن ہے، یہ ایک معصوم آدمی ہے جس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہونا چاہئے، امریکی حکومت انہیں حراست میں کیوں رکھے ہوئے ہے؟