سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور میں سلطنت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑے پیمانے پر کمی کا انکشاف ہوا ہے۔
سعودی عرب کی مانٹیری اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق کنگ سلمان کے ان پانچ سالوں کے دوران سلطنت کے ریزرو میں کل 233 ارب ڈالرز کی کمی ہوئی ہے۔
موجودہ بادشاہ سلمان نے جنوری 2015 میں اقتدار سنبھالا تھا۔
سعودی عرب میں پابندیوں کا خاتمہ اور ملازمت کی تلاش میں نکلی خواتین کا سیلاب
سعودی عرب کا قیدیوں کے لیے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان
نئے اعدادوشمار کے مطابق 2015 میں سعودی عرب کے پاس 732 ارب ڈالرز موجود تھے جوپانچ سال بعد کم ہو کر 499 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق اس کی وجوہات میں یمن میں جاری جنگ، مغربی ممالک سے بھاری مقدار میں اسلحہ کی خریداری اور ایک ایسے پراجیکٹ پر رقومات کا خرچ کرنا شامل ہے جسے متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔
شہزادہ سلمان کا مستقبل کے شہر بسانے کے منصوبے کو فارن ریزورز میں کمی کی ایک بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے۔
ان تین وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے تقریباً 46 ارب ڈالرز سالانہ اخراجات ہو رہے تھے جو بہت سارے ملکوں کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہیں۔
یمن میں جنگ 84 سالہ سلمان بن عبدالعزیز کے بادشاہ بننے کے تین ماہ بعد شروع ہو گئی تھی۔
اس جنگ کا مقصد یمن کی اس حکومت کو بحال کرانا تھا جسے عالمی دنیا تسلیم کرتی ہے لیکن اس پر حوثی باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم ان پانچ برسوں میں ثنا پر باغیوں کا ہی قبضہ برقرار رہا ہے۔
شہزادہ محمد، جو وزیردفاع بھی ہیں، کو سعودی عرب میں طاقتور شخیصت کا درجہ حاصل ہے۔ وہ اپنے باپ بادشاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد وزیردفاع بنا دیے گئے تھے اور ساتھ ہی یمن میں جنگ شروع ہوگئی تھی۔
انہوں نے جہاں سلطنت میں بہت اہم سماجی اصلاحات شروع کیں وہیں انہیں اپنے مخالف سعودی شہزادوں اور ناقدین کو جیلوں میں بھی ڈالنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
چین کے بعد اب جنوبی کوریا میں بھی زندگی معمول پر آنے لگی
امریکی خام تیل کی مارکیٹ کریش، تیل کی قیمت ایک سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی
2015 کے بعد سعودی عرب کی فی کس آمدنی بھی 25 ہزار ڈالرز سے کم ہو کر 23000 ڈالرز ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ریزورز میں یہ بڑی کمی تیل کی قیتمیں کریش ہونے سے پہلے ہوئی تھی۔ کورونا وائرس کے بعد تیل کی بڑے پیمانے پر قمیتیں گرنے کی وجہ سے بحران مزید گہرا ہوتا لگ رہا ہے۔
سعودی معیشت جس کا انحصار تیل پر ہے اس پر موجودہ بحران کے اثرات گہرے ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔