• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home Uncategorized

بھارت کی فیس بک سے لڑائی، پوری دنیا کاسوشل میڈیا متاثر ہونے کا امکان

by sohail
اپریل 30, 2020
in Uncategorized, انتخاب, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر خطرناک جھوٹی معلومات پھیلنا شروع ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کورونا وبا کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلی ان جھوٹی معلومات اور افواہوں کو ”infodemic“ کا نام دیا ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کے آتے ہی سوشل میڈیا افواہیں پھیلنے لگیں۔ کسی نے کہا کہ یہ وبا ووہان کی لیبارٹری سے پھیلی تو کسی نے کہا کہ مسلمان جان بوجھ کر اسے پھیلا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی جھوٹی خبروں کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

کورونا وائرس کا علاج، سوشل میڈیا پر پھیلی افواہ نے 300 ایرانیوں کی جان لے لی

مودی حکومت نے بھارت میں آزادی صحافت کا خاتمہ کیسے کیا؟

ان افواہوں نے شدت پکڑی تو بھارتی حکومت نے فیس بک کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ سے رابطہ کر لیا۔ ایک طرف سوشل میڈیا کی غیر تصدیق شدہ خبریں تو دوسری طرف بھارتی حکومت کی شہریوں کی خفیہ معلومات تک رسائی کی کوششیں، نتیجہ یہ ہوا کہ فیس بک اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

فیس بک اور بھارتی حکومت کے مابین نوک جھونک بہت پرانی بات ہے مگر اب یہ جنگ کی شکل اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ ایک ایسی لڑائی جس کے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین پر اثرات ہوسکتے ہیں۔

ماضی میں بھی فیس بک کی جانب سے بھارت میں اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات دنیا پر مرتب ہوچکے ہیں۔

بھارت میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 69 کروڑ ہے جو کہ چین کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مناسب قیمتوں پر دستیاب اسمارٹ فونز اور سستے ڈیٹا کی وجہ سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ٹی وی کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

بھارت میں 32 کروڑ 80 لاکھ لوگوں کے فیس بک اکاؤنٹس ہیں جبکہ 30 کروڑ لوگ فیس بک کی ملکیتی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے منافع میں ہر برس بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت میں فیس بک کیلئے کاروبار کے وسیع مواقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں فیس بک اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ 22 اپریل کو فیس بک کی جانب سے بھارت کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ”ریلائنس جیو“ میں 5 ارب 70 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی۔

مگر یہ بھی سچ ہے کہ فیس بک کے پلیٹ فارمز کا استعمال کر کے افواہیں پھیلائی گئی ہیں جن سے بھارت میں تشدد بڑھا ہے۔ ان افواہوں کے نتیجہ میں بنے ماحول میں حکومتی ادارے شہریوں کے خفیہ میسجز تک رسائی کا کہہ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے فیس بک کی جانب سے شہریوں کی معلومات جمع کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی حکومت اور فیس بک کے مابین جاری اس جنگ کے عالمی طور پر انٹرنیٹ کی ریگولیشن پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک ارب 30 کروڑ آبادی کا ملک بھارت انٹرنیٹ مارکیٹ کیلئے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ بھارت اور فیس بک کے مابین جو کچھ بھارت میں ہوگا اس کے دنیا بھر کی سوشل میڈیا پالیسی پر اثرات مرتب ہونگے۔

2017 اور 2018ء میں بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص واٹس ایپ پر کچھ شیطانی افواہیں پھیلی تھیں جن سے تشدد کے واقعات بڑھ گئے تھے۔ الزامات لگائے گئے تھے کہ ہندوؤں کیلئے مقدس گائے ذبح کی جا رہی ہے، اسی طرح بچوں کے اغواء سے متعلق افواہیں وائرل ہوئیں۔

انڈیا سپنڈ نامی ویب سائٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری2017ء سے جولائی2018ء کے دوران ان افواہوں کے نتیجے میں پرتشدد جتھوں کے ہاتھوں 33 افراد قتل کر ہوئے۔ ڈیڑھ برس کے اس عرصہ میں جھوٹی افواہوں کے نتیجہ میں تشدد کے کل 69 کیسز رپورٹ ہوئے، بعد میں پتہ چلا کہ قتل ہونیوالے افراد کے خلاف الزامات بے بنیاد تھے۔

ان واقعات کے بعد بھارت میں حکام کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو مؤردِالزام ٹھہرایا گیا۔ سب سے زیادہ جھوٹی خبریں واٹس ایپ پر پھیلیں۔ ان واقعات کے بعد فیس بک نے بھارتی اخباروں اور ٹی وی پر بڑے بڑے اشتہار دیے جن میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک پر محفوظ کیسے رہنا ہے۔ کمپنی نے فارورڈ کئے گئے میسجز پر ”فارورڈڈ“ کا لیبل لگا دیا اور 5 افراد تک میسج فارورڈ کرنے کی پالیسی بنا دی۔

بھارت میں لیے گئے ان اقدامات کو فیس بک نے باقی دنیا میں بھی لاگو کر دیا تھا اور ماہرین اب بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

7 اپریل 2020ء کو واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ کمپنی میسج فارورڈ کرنے کی حد ایک فرد تک محدود کر دے گی۔ واٹس ایپ کی جانب سے کورونا وبا کے دوران افواہوں پر قابو پانے کیلئے یہ قدم لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

واٹس ایپ نے پیغامات فارورڈ کرنے کی حد میں مزید کمی کر دی

فیس بک نے بھی موبائل گیمز ایپ کے میدان میں قدم رکھ دیا

دسمبر2018ء میں بھارتی حکومت نے ملک میں کام کرنیوالی سوشل میڈیا کمپنیوں کیلئے ڈرافٹ قوانین شائع کئے تھے جن میں شامل ایک شق میں کہا گیا تھا کہ اگر حکومت کا کوئی بھی ادارہ کسی مواد بارے سوشل میڈیا کمپنی کو شکایت بھیجے اور اس مواد کو نشر کرنیوالے بارے معلومات مانگے تو سوشل میڈیا کمپنی کو 72 گھنٹوں میں معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کے بعد یہ قوانین نافذالعمل ہوجائیں گے۔

دنیا بھر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام واٹس ایپ کے سیکیورٹی فیچر جسے انکرپشن کہ جاتا ہے، پر حملہ ہوگا کیونکہ انکرپشن توڑے بغیر میسج بھیجنے والے کا سراغ لگانا مشکل ہوگا۔ واٹس ایپ کا ’انکرپشن‘ ہی اسے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ممتاز کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک اور دیگر ٹیک کمپنیاں بھارت کی انٹرنیٹ بارے پالیسیوں کی منتظر رہتی ہیں کیونکہ یہاں صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہاں لاگو کی گئی پالیسیوں کا اطلاق باقی دنیا پر کئے جانے کے امکانات ہوتے ہیں۔

Tags: سوشل میڈیاسوشل میڈیا اور بھارتی حکومتفیس بک
sohail

sohail

Next Post

ٹیکسوں میں کٹوتی کے لیے آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کا حکومت پر دباؤ

جب سچن ٹنڈولکر نے 4 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیا

کورونا کے باعث عبادت گاہوں پر پابندی کے بعد برطانوی بچے نے گھر میں مسجد بنا لی

اللہ کا گھر نظر آیا؟

پیٹرولیم مصنوعات میں حیرت انگیز کمی کا اعلان کر دیا گیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In