• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 25, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

اللہ کا گھر نظر آیا؟

by sohail
اپریل 30, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

‘بھائی بات سنیں! چھوٹے بھائی بات سنیں!’ میں نے ان آوازوں کو نظرانداز کر کے گزرنے کی کوشش کی تو ایک آدمی بھاگ کر میرے سامنے آ گیا۔ مجبوراً مجھے رکنا پڑا۔ راستہ روکنے والے شخص نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی، سر پر ٹوپی اور کندھے پر سندھی شال لٹکائی ہوئی تھی۔ ایک پرچی میرے سامنے کرتے ہوئے اس نے پوچھا کہ یہ اسپتال کہاں ہے؟ میں نے کاغذ دیکھا جس پر جناح ہسپتال لاہور لکھا ہوا تھا۔

ابھی میں اسے راستہ سمجھا ہی رہا تھا کہ ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا، پہلے تو اس نے راستہ پوچھنے والے صاحب کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور پھر انتہائی مودب لہجے میں دریافت کیا کہ پیر صاحب آپ یہاں کیا کر رہے ہیں اور کب تشریف لائے؟ میں تجسس سے دونوں کے چہرے دیکھتا رہا۔ باریش شخص کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ وہ سخی شہباز قلندر کے دربار سے تشریف لائے ہیں، دربار کے گدی نشین ہیں اورانتہائی سادگی پسند ہیں۔ میں نے بھی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلام کیا۔

پیر صاحب نے اچانک اپنے مرید سے کہا کہ جو کچھ جیب میں ہے، وہ باہر نکالو۔ مرید نے تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیب میں موجود تمام رقم اور ایک موبائل میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔  پیر صاحب نے کہا کہ آنکھیں بند کر کے دس قدم چلو اور پھر مجھے بتانا کہ کیا نظر آیا ہے۔ مرید نے احکامات پر عمل کیا اور واپس آ کر بتایا کہ اللہ کا گھر نظر آیا ہے۔ پیرصاحب  نے اسے خوش نصیب قرار دیتے ہوئے اپنا رخ مبارک میری جانب پھیرا اور پوچھا کہ تمہاری جیب میں کتنے پیسے ہیں؟ میں نے اپنی جیب میں موجود رقم اندازاً بتا دی۔ پیر صاحب نے فرمایا کہ کیا تم مجھ پر اعتبار کر سکتے ہو؟ اس تمام تر کارروائی کے بعد کون کافر اعتبار نہ کرتا اس لیے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

پیر صاحب نے کہا کہ اب تم اپنے پیسے اور موبائل دوسرے شخص کے ہاتھ پر رکھ دو اور آنکھیں بند کر کے دس مرتبہ درود شریف پڑھتے ہوئے سیدھا چلتے جاؤ، پھر واپس آ کر بتاؤ کہ کیا نظر آیا۔ میں نے ان کی بات پر عمل کیا۔ دس بار درود شریف پڑھ کر واپس آیا اور بتایا کہ مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے بیس روپے کے ایک نوٹ پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری اور جیب میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شاید تم گنتی بھول گئے ہو اس لیے اب بند آنکھوں کے ساتھ سیدھے چلتے جاؤ، پچاس مرتبہ درود شریف پڑھنے کے بعد آنکھ کھولو اور واپس آ جاؤ۔

میں نے کسی سحرزدہ شخص کی طرح ان کی ہدایات پر عمل کیا، 50 مرتبہ درود شریف بھی پڑھا اور آنکھیں بند کر کے چلتا بھی رہا۔ اللہ پاک کا گھر تو کیا نظر آنا تھا الٹا جب آنکھیں کھولیں تو پیر ومرید دونوں بھی غائب تھے اور مجھے صرف دن میں تارے نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔

طالبعلمی کے دن تھے اور گھر سے ملنے والے سارے پیسے جیب میں ہی تھے جو گنوا بیٹھا تھا۔ موبائل بھی نہیں رہا کہ کسی سے رابطہ کر کے حالت زار بتا سکوں، اسی وقت دم کیے گئے بیس روپے یاد آئے جو ایک نعمت سے کم نہیں تھے، اداس دل کے ساتھ بس پر بیٹھا، کرایہ دیا اور فیصل ٹاؤن لاہور گھر پہنچ گیا جہاں دوستوں کے ساتھ رہتا تھا، ایک عقلمندی کی کہ کسی کو اپنی حماقت کا واقعہ نہ سنایا۔ فرضی پیر صاحب کی کارروائی اپنی جگہ مگر انہوں نے بیس روپے دے کر اتنا تو خیال کیا کہ گھر واپس پہنچ سکوں۔

یہ واقعہ میرے ساتھ پندرہ سال پہلے جوہر ٹاؤن لاہور میں پیش آیا۔ کچھ دن پہلے ایک دوست کو پریشان پایا۔ وجہ پوچھی تو اس نے بھی ملتی جلتی کہانی سنائی۔ میں نے ایک جاندار قہقہہ لگایا اور پندرہ برس پہلے کی پھانس دل سے نکل گئی کیونکہ اب میں اکیلا احمق نہیں تھا۔

میرے دوست کو میرے قہقہہ لگانے کی وجہ سمجھ آ ئی، نہ ہی میں نے بتائی۔ چند ماہ بعد بس کے انتظار میں کھڑا تھا تو ایک مرتبہ پھر دو صاحب آئے اور وہی کہانی دہرانے لگے، میں نے ہنس کر کہا کہ میں اس سے پہلے بھی اللہ میاں کا گھر دیکھنے کی کوشش کر چکا ہوں، وہ بات سمجھ گئے اور چلتے بنے۔

یہ واقعہ اس لیے یاد آیا ہے کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم یونٹ کی طرف سے ”بینک فراڈ سے رہیں ہوشیار“ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد بینک کی ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبر سے فون کرتے ہیں اور اسٹیٹ بینک کا نمائندہ، خفیہ ایجنسی کا اہلکار یا فوجی افسر بن کر اکاؤنٹ سے متعلق تمام تر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایف آئی اے سائبر کرائم کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صارفین لاعلمی میں فراڈ میں ملوث جرائم پیشہ افراد کی مدد خود کردیتے ہیں۔ یہ گروہ اتنے اعتماد سے بات کرتا ہے کہ شک تک نہیں گزرتا، تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ”اب آپ کا اکاؤنٹ مکمل طور پر محفوظ ہے“۔

میں سوچ رہا ہوں کہ  بینک یا موبائل کیش اکاؤنٹ فراڈ کا شکار ہونے والے صارفین کیا اپنے دوستوں، عزیزوں کو اپنے ساتھ ہونے والی واردات کا بتاتے ہوں گے یا پھر میری طرح خاموشی اختیار کر لیتے ہوں گے اور جب کوئی دوست اپنا دکھ بیان کرے تو قہقہہ لگا کر دکھ کی چادر اتار پھینکتے ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنا دکھ بیان کرنے والا حیران ہوتا ہو گا کہ بڑا عجیب شخص ہے جو ایک المیے پر قہقہے لگا رہا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم کی طرف سے جن ایس ایم ایس کا ذکر کیا گیا ہے وہ تقریباَ تمام موبائل صارفین کو کسی نہ کسی شکل میں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ میں بھی فراڈ پر مبنی ایسے مسیجز کو نظر انداز کرتا رہا۔ ایک دن سوچا کہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیسے فراڈ کرتے ہیں۔

مطلوبہ نمبر پر کال ملائی تو دوسری جانب سے یکطرفہ گفتگو شروع ہو گئی، مجھے بولنے کا موقع ہی نہ ملا، میں نے جہاں بولنے یا ٹوکنے کی کوشش کی وہاں بھی بولنے والا اپنی بات میں لگا رہا اور ان تمام سوالوں کے جواب دیتا رہا جو میرے ذہن میں ابھر رہے تھے۔ اپنی بات مکمل کرتے ہی دوسری جانب سے کال منقطع ہو گئی۔ دوبارہ کال ملائی تو ایک مرتبہ پھر وہی بات لفظ بہ لفظ دہرا دی گئی، تب معلوم ہوا کہ یہ ریکارڈ کا گیا آڈیو پیغام تھا جس میں ایک نمبر بتایا گیا کہ اس پر فون کیا جائے۔ یقیناَ اس نمبر پر صارفین اپنی حساس معلومات شیئر کرتے ہوں گے۔

چند برس پہلے ایک دوست کے گھر گیا تو اس نے ہنستے ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ ایک مسیج موصول ہوا کہ قرعہ اندازی میں آپ کی گاڑی نکلی ہے، ساتھ ایک نمبر بھی دیا گیا جس پر فون کرنے کا کہا گیا۔ بچوں نے کال کی تو آگے سے ایک ہزار روپے کا لوڈ کرانے کا کہا گیا۔ ایک ہزار روپیہ ضائع کرنے کے بعد سمجھ آئی کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ ساری کہانی سننے کے بعد میں نے ایک بار پھر جاندار قہقہہ لگایا مگر میرا دوست نہ سمجھ سکا کہ قہقہہ کیوں لگایا گیا ہے۔ یقیناَ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

sohail

sohail

Next Post

پیٹرولیم مصنوعات میں حیرت انگیز کمی کا اعلان کر دیا گیا

تیل کی پیداوار کم کرو ورنہ سعودی عرب سے فوجیں نکال لیں گے، ٹرمپ کی شہزادہ سلمان کو دھمکی

روسی وزیراعظم کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

احمدی نمائندہ کو قومی کمیشن برائے اقلیت سے نکالنے کی سفارش

شبہ ہے کہ 1999 کا ورلڈ کپ میچ فکسنگ کی وجہ سے ہارے، سابق چئیرمین پی سی بی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In