وزارت مذہبی امور نے کابینہ کو سمری ارسال کرتے ہوئے احمدیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی سفارش کردی ہے.
نئی مجوزہ سمری میں چئیرمین کے عہدے کے لیے چیلا رام کیولانی کا نام تجویز کیا گیا جبکہ 6 آفیشل ممبران کے علاوہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے تین افراد کے نام کمیشن کے لیے تجویز کیے گئے۔
کابینہ سے منظوری کے لیے تیار کی گی سمری میں 3 نمائندے عیسائی مذہب سے، 2 سکھ مذہب سے اور ایک ایک نام پارسی اور کیلاش کمیونٹی سے تجویز کیے گئے۔ مجوزہ سمری میں مسلمان نمائندے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق آفیشل ممبران میں وزارت داخلہ، وزارت قانون و انصاف، وزارت انسانی حقوق، فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کا 20 گریڈ یا اس سے سینئر گریڈ کا ایک ایک نمائندہ تجویز کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل اور سیکرٹری برائے وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے نام بھی بطور آفیشل ممبران تجویز کیے گئے ہیں۔
مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد اور مفتی گلزار احمد نعیمی کا نام تجویز کیا گیا۔
ہندو کمیونٹی سے چئیرمین کے علاوہ جے پال چھابریا، وشنو راجہ قوی کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے تین نام ڈاکٹر سارہ صدف، بشپ سیبسٹین فرانسس شاو اور البرٹ ڈیوڈ سامنے آئے ہیں۔
سمری کے مطابق سکھ مذہب سے ڈاکٹر ممپال سنگھ اور ساروپ سنگھ جبکہ پارسی کمیونٹی سے روشان خورشید بھروچہ اور کیلاش کمیونٹی کی نمائندگی کے لیے داؤد شاہ کا نام تجویز کیا گیا ہے۔
سمری کے مطابق مذہبی اور تاریخی حساسیت کی وجہ سے احمدی کمیونٹی کے کسی بھی نمائندے کو کمیشن میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
احمدی کمیونٹی کے نمائندے کو کمیشن میں شامل کرنے پر مختلف حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا جسکے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔