شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کے متعلق افواہیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، بہت دنوں سے وہ ریاستی میڈیا پر بھی نظر نہیں آئے جس کے باعث ان خبروں میں صداقت نظر آ رہی ہے کہ شاید وہ شدید بیمار ہیں یا پھر ان کی موت واقع ہوچکی ہے۔
افواہوں کی اس دھند میں ملک کے اگلے حکمران کے متعلق بھی ہر قسم کے اندازے لگائے جا رہے ہیں تاہم ایک چہرہ زیادہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے اور وہ کم جونگ ان کی چھوٹی بہن کم یو جونگ ہیں۔
کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کم یو جونگ ہی شمالی کوریا کی اگلی ممکنہ حکمران ہو سکتی ہیں لیکن کئی لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی عورت کا اس ملک پر حکومت کرنا ممکن ہے؟
عالمی میڈیا پر شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کی موت کی قیاس آرائیاں
تیل کی پیداوار کم کرو ورنہ سعودی عرب سے فوجیں نکال لیں گے، ٹرمپ کی شہزادہ سلمان کو دھمکی
15 اپریل کو شمالی کوریا کے حکمران کی اپنے دادا کم ال سنگ کی سالگرہ کے موقع پر غیر موجودگی نے سب سے پہلے افواہوں کو جنم دیا کیونکہ 2011 میں حکومت سنبھالنے کے بعد وہ کبھی بھی اس تقریب سے غیرحاضر نہیں رہے۔
کم یو جونگ کون ہیں؟
ٹائم میگزین کے مطابق کم یو جونگ کی عمر تیس سال سے تھوڑا اوپر ہے، وہ اپنے بھائی کی قریب ترین اور سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی سمجھی جاتی ہیں۔
واشنگٹن میں کورین اسٹڈیز کے سینئر ڈائرکٹرہیری جے کازیانس کا کہنا ہے کہ کم یو جونگ شمالی کوریا کی قیادت میں قابل ترین افراد میں شامل ہیں۔
ان کی زیادہ تر عمر پیانگ یانگ میں گزری ہے جہاں وہ پیدا ہوئیں، تاہم کہا جاتا ہے کہ اسکول کی ابتدائی تعلیم کے لیے وہ 4 برس سویٹزرلینڈ میں رہی ہیں۔
ان کی شادی چو سانگ سے ہوئی تھی جو شمالی کوریا کے طاقت ور ترین افراد میں سمجھے جاتے ہیں، 2011 میں اپنے والد کی آخری رسومات کے دوران پہلی بار ان کی تصویر منظرعام پر آئی، اس سے قبل ان کے بارے میں کم لوگ جانتے تھے۔
2018 میں پیانگ یانگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت کے دوران انہیں بین الاقوامی شہرت ملی، فروری 2019 میں ویتنام میں صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے بھائی کی ملاقات کے وقت بھی وہ موجود تھیں۔
سرکاری طور پر کم یو جانگ ورکرز پارٹی آف پراپیگنڈا اور ایجی ٹیشن ڈپارٹمنٹ کی وائس ڈائرکٹر ہیں، اس ایجنسی کا بنیادی کام ملک میں سنسرشپ کا نفاذ ہے۔
اپریل میں انہیں ملک کے سب سے طاقتور فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیوریو آف دی سنٹرل کمیٹی میں متبادل رکن کے طور پر دوبارہ شامل کیا گیا تھا، اس سے قبل انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
کیا ایک عورت شمالی کوریا کی حکمران بن سکتی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پدرسری نظام پر مبنی معاشرہ ہے جس میں کسی خاتون کے حکمران ہونے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔
1948 میں وجود میں آنے والے اس ملک پر اب تک تین مردوں ، کم ال سنگ، کم جونگ ال اور کم جونگ ان، نے حکمرانی کی ہے، یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق عہدیدار میناترو اوبا کا کہنا ہے کہ کم یو جونگ کو حکمرانی کے حوالے سے یقیناً بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔