معروف فلم سٹار عرفان خان کی اہلیہ ٹیلی وژن رائٹر اورپروڈیوسر ستاپا سکدر نے اپنے خاوند کو منفرد الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ آپ کا جانا فقط نقصان نہیں ہے کیونکہ آپ سے ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے، ہم نے وہ سب حاصل کیا جو آپ نے ہمیں سکھایا، اب ہم اس پر عمل کریں گے اور آگے بڑھیں گے۔
عرفان خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر نوٹ کی صورت میں سکدر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جب ساری دنیا اسے ذاتی نقصان کے طور پر لے رہی ہے تو میں اسے خاندان کی طرف سے بیان کے طور پر کیسے لکھ سکتی ہوں؟ اس وقت جب لاکھوں افراد ہمارے ساتھ غمزدہ ہیں تو میں خود کوکیسے تنہا محسوس کرسکتی ہوں؟
عرفان خان کی زندگی کے دلچسپ پہلو، ان کی اپنی زبانی
بھارتی اداکار عرفان خان کے 15 سپرہٹ ڈائیلاگ
وہ لکھتی ہیں کہ یہ سب ہمارے لیے ناقابل یقین ہے لیکن میں اسے عرفان کے الفاظ میں بتانا چاہوں گی کہ ’’یہ سب جادوئی ہے‘‘ چاہے وہ یہاں موجود ہیں یا نہیں، یہ وہ چیز ہے جس سے وہ محبت کرتے تھے، انہیں کبھی بھی یک جہتی حقیقت سے پیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے عرفان کے خلاف ایک غصہ ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے مجھے ہمیشہ کے لیے بگاڑ دیا ہے کیونکہ کمال کے حصول کی خواہش اب مجھے زندگی میں عمومیت پر راضی ہونے نہیں دیتی۔
ستاپا سکدر لکھتی ہیں کہ انہوں نے ہر چیز میں، حتیٰ کہ انتشاراور کرخت آوازوں کے شوروغوغا کے بیچ بھی ایک ردھم دیکھا۔ چنانچہ مجھے بھی اس ردھم پر گیت گانا اور رقص کرنا پڑا، چاہے میری آواز بھدی تھی اور میرے پاس صرف دو ہی پیر بچے تھے۔
وہ لکھتی ہیں کہ ستم ظریفی یہ تھی کہ ہماری زندگی بھی اداکاری کا ایک شاہکار تھی، اس لیے جب بھی مدعو نہ کیے گئے مہمان پہنچ جاتے تو میں شورشرابے میں بھی ہم آہنگی دیکھ لیا کرتی تھی۔ ڈاکٹروں کی رپورٹس ایسے سکرپٹس کی طرح تھیں جنہیں میں کمال درجے میں سیکھنا چاہتی تھی تاکہ جس طرح عرفان اپنی پرفارمنس میں کوئی جھول نہیں رہنے دیتے تھے اسی طرح میں بھی کوئی معمولی تفصیل نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔
انہوں نے لکھا کہ اس سفر کے دوران ہم چند بہت عمدہ لوگوں سے ملے اور اس کی فہرست نا ختم ہونے والی ہے تاہم چند ایسے ہیں جن کا ذکر ضروری ہے ۔ ان میں ڈاکٹر نتیش روہتوگی ہیں جنہوں نے شروع دن سے ہی ہمارا ہاتھ تھامے رکھا، ڈاکٹر ڈان کریل، ڈاکٹر شدراوی، میرے دل کی دھڑکن اور تاریکی میں روشنی ڈاکٹر سوانتی لیمائی شامل ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اس بات کی وضاحت بہت مشکل ہے کہ یہ سفر کس قدر حیران کن، دلکش، تکلیف دہ اور جوش سے بھرا رہا ۔ میں ان ڈھائی برسوں کوایک وقفہ سمجھتی ہوں جس کا اپنا آغاز، درمیان اور عروج ہے جس میں عرفان آرکسٹرا پیش کرنے والے کے روپ میں سامنے آتے ہیں، یہ عرصہ ہمارے ساتھ کے برسوں سے مختلف ہے، ہماری شادی نہیں ہوتی بلکہ ملاپ ہوا تھا۔
جب عرفان خان کو اداکاری سکھانے والے اسکول میں داخلہ ملا اور جے پور جلنے سے بچ گیا
عرفان خان کے بعد بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار رشی کپور بھی انتقال کر گئے
ستاپا سکدر نے مزید لکھا کہ میں اپنی مختصر فیملی کو ایک کشتی میں سوار دیکھتی ہوں، میرے دونوں بیٹے بابل اور ایان اسے آگے بڑھا رہے ہیں اور عرفان انہیں ’’وہاں نہیں ، یہاں سے موڑو‘‘ جیسی آوازیں دے کر رہنمائی کر رہے ہیں لیکن چونکہ زندگی سینما نہیں ہے اور اس میں ری ٹیک نہیں ہوتے اس لیے میں خلوص دل سے یہ خواہش رکھتی ہوں کہ بچے اپنے باپ کی رہنمائی میں یہ کشتی حفاظت سے چلاتے رہیں اور اسے طوفانوں سے گزارتے چلے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے باپ کے سکھائے ہوئے کسی ایسے سبق کا خلاصہ بیان کر سکتے ہیں جسے وہ بہت اہم سمجھتے ہوں۔
بابل نے کہا کہ غیریقینی کے رقص کے سامنے ہتھیار ڈالنا سیکھو اور کائنات پر اپنا ایمان قائم رکھو۔
ایان نے کہا کہ اپنے ذہن کو قابو میں رکھنا سیکھو اور اسے اپنے اوپر حاوی نہ آنے دو۔
ستاپا سکدر نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم ان کی فاتحانہ جدوجہد کے بعد آرام کرنے والی جگہ پر ان کی پسندیدہ رات کی رانی اگائیں گے تو ہمارے آنسو نکل پڑیں گے۔ وقت ضرور لگے گا مگر یہ کھل اٹھے گی اور اس کی خوشبو پھیل جائے گی اور تمام روحوں کو چھو لے گی جنہیں میں ان کے مداح نہیں کہتی بلکہ آنے والے دنوں کے لیے اپنا خاندان سمجھتی ہوں۔