سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مجھ سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا لیکن میں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد تلخی بڑھ گئی۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے انہیں بلا کر استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا لیکن میں نے انہیں استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا اور کہا آپ مجھ سے استعفیٰ لینے کے مجاز نہیں، اس پر مجھے ڈی نوٹیفائی کرنے کی دھمکی دی گئی اور میرے انکار کے بعد مجھے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ۔
مشیر اطلاعات اور ترجمانوں کی فوج
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین ماہ سے وزارت اطلاعات میں کافی مسائل چل رہے تھے اور میری وزارت میں کئی لوگ بغیر نوٹیفکیشن کے ترجمان بنے ہوئے تھے۔
وزارت اطلاعات میں بڑی تبدیلی، شبلی فراز وزیر، عاصم باجوہ معاون خصوصی مقرر
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قومی سطح کا مسئلہ ہوتا تو یہ وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان بن کر حکومت کا مؤقف پیش کر دیتے تھے جس کی وجہ سے مجھے حکومت کا موقف دینے میں مشکل پیش آتی تھی کیونکہ جب تک وزارت اطلاعات ردعمل دیتی تھی تو اس وقت تک غیر سرکاری ترجمان کی وجہ سے حکومت کا مؤقف کمزور ہو جاتا تھا۔
سابق مشیر اطلاعات نے کہا کہ میرے خلاف کابینہ میں بھی مخالفت جاری تھی اور وزیراعظم کو میرے خلاف حقائق مسخ کر کے بتائے جاتے تھے، میں نے ایک ہفتہ پہلے وزیراعظم سے بڑی کوشش کر کے ملاقات کی تھی جس میں نے اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا۔
کرپشن کے الزامات
حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزمات پر بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے کسی ایڈورٹائزر کمپنی کو ادائیگیوں کی منظوری نہیں دی تھی لہذا میں دس فیصد کمشین کیسے لے سکتی تھی۔
فردوس عاشق اعوان کے زیر استعمال کتنی گاڑیاں تھیں؟
انہوں نے بتایا کہ میرے زیر استعمال وہی گاڑیاں تھیں جو فواد چوہدری بطور وزیر استعمال کرتے تھے، میں ایک سیاسی شخصیت ہوں، میرےاوپر الزام لگا کر میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
فردوس عاشق اعوان نے اپنے وکیل سے کیا مشورہ کیا؟
فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے قانونی مشیر سے مشورہ کر لیا ہے اور وہ یوٹیوب پر ان کی کرپشن کا پراپیگنڈہ کرنے والے نام نہاد اینکرز کو لیگل نوٹس بھجوا رہی ہوں کیونکہ یہ ان کی ساکھ اور عزت کا مسئلہ ہے۔
پی ٹی وی کو کون کنٹرول کر رہا ہے؟
پی ٹی وی میں اپنے بندے رکھوانے کے الزام میں فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی میرے کنٹرول میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں مشیر بنی تو میری ماتحت خاتون سیکریٹری وزیراعظم ہاؤس کو براہ راست کیس بھجواتی رہیں اور مجھے بائی پاس کیا گیا
فردوس عاشق اعوان کا نیا پنڈورا بکس کھلنے کا عندیہ
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایڈورٹائیزر کمپنیاں کی انڈکشن کا تعلق ہے تو یہ میرے سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کی تھیں، اس فہرست میں جو ردوبدل کیا گیا وہ اگر میں بتا دوں تو ایک نیا پنڈورا بکس کھل سکتا ہے۔
استعفیٰ دینے سے انکار کیوں کیا؟
اینکر عادل عباسی نے سوال کیا کہ کہ جب پرنسپل سیکرٹری نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا تو اس وقت شہزاد اکبر بھی موجود تھے اس پر فردوس عاشق نےکہا کہ وہ پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ موجود تھے لیکن استعفیٰ لینا یا کابینہ میں ردوبدل کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے، ایک بیورکریٹ یا مشیر کس قانون کے تحت استعفیٰ طلب کر سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ شاید پرنسپل سیکرٹری نے سوچا ہو کہ جیسے درانی، یوسف بیگ مرزا اور طاہر خان سے استعفیٰ مانگا گیا اور انہوں استعفیٰ دے دیا اس طرح فردوس عاشق اعوان بھی میرے حکم پر استعفیٰ دے گی لیکن میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں ایک سیاسی شخصیت ہوں، میں نے الیکشن لڑنا ہے اور میرے ساتھ میرے حلقہ کے لاکھ سے زائد ووٹر جڑے ہیں، میرے سیاسی مستقبل کا معاملہ ہے جبکہ جن مشیران سے پہلے استعفیٰ لیا گیا وہ غیر سیاسی لوگ تھے۔
شبلی فراز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کا چہرہ ہیں، ایک سوال کے جواب میں فردوس عاشق نے کہا کہ وزیراعظم سے ان کی واٹس ایپ میسج پر بات ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ سینئر اینکر روف کلاسرا اپنے 29 اپریل کے وی لاگ میں فردوس عاشق اعوان کی برطرفی کی تمام تفصیلات پہلے ہی بتا چکے ہیں، جو تفصیلات روف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں بتائی تھیں وہی فردوس عاشق اعوان نے اے آر وائی پر عادل عباسی کے پروگرام میں بیان کی ہیں۔
روف کلاسرا نے بتایا تھا کہ فردوس عاشق اعوان سے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اورایڈوائزر شہزاد اکبر نے استعفیٰ طلب کیا تھا اور انکار پر انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔