ہفتوں پر محیط لاک ڈاؤن کے بعد نیوزی لینڈ نے کورونا وبا کا قلع قمع کرنے کا حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں نئے مریضوں کی کی روزانہ تعداد دس سے بھی کم تھی تاہم پیر کو پورے ملک میں صرف ایک مریض سامنے آیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ایشلے بلوم فیلڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ہمیں اعتماد دلا رہی ہے کہ ہم نے کورونا وبا کا خاتمہ کر دیا ہے۔
چین اور جنوبی کوریا کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی کورونا کے خاتمے کا اعلان کر دیا
کورونا وائرس کے خلاف جنگ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ نے جمہوریت کا بھرم رکھ لیا
پیر کے روز نیوزی لینڈ نے پانچ ہفتوں کے لاک ڈاؤن میں کمی لانے کا اعلان کیا جس کے بعد 4 لاکھ مزید شہری کام پر جانا شروع ہو گئے ہیں اور ملک کی 75 فیصد معیشت کام کرنے لگی ہے۔
نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن لیول 4 سے لیول 3 تک لایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں مرنے والوں کی آخری رسومات میں ایک حد تک اجتماع ممکن ہو سکے گا اور لوگ ریسٹورانٹس میں جا کر کھانا کھا سکیں گے۔
جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق نیوزی لینڈ میں اب تک 1472 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے سے 82 فیصد صحتیاب ہوئے ہیں، اموات کی تعداد 19 رہی ہے۔
وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں نکلے، ہم ایک طرح سے ریکوری روم میں چلے گئے ہیں تاکہ جان سکیں کہ جو ناقابل یقین کارنامہ نیوزی لینڈ نے سرانجام دیا ہے اس نے واقعی کام کر دکھایا ہے؟
نیوزی لینڈ کو وائرس کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے کچھ فوائد بھی حاصل تھے، ان کے ہاں پہلا مصدقہ مریض 28 فروری کو سامنے آیا جبکہ امریکہ میں ایک ماہ قبل پہلا مریض سامنے آیا تھا، یوں نیوزی لینڈ اس وبا کے لیے تیار تھا۔
یہ ایک دور دراز کا جزیرہ ہے اور نسبتاً کم پروازیں یہاں سے گزرتی ہیں، یہاں مرکزی حکومت کا نظام ہے اور امریکہ یا آسٹریلیا کی طرح یہاں ریاستیں موجود نہیں ہیں۔
تاہم نیوزی لینڈ کی حقیقی کامیابی ان کا طریق کار ہے جو کرونا وبا کے خاتمے کے لیے کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اس طریق کار کے تین بنیادی ستوں یہ ہیں۔
1۔ تیزی سے حرکت میں آنا
کورونا وبا کا آغاز ہوتے ہی نیوزی لینڈ کی حکومت تیزی سے حرکت میں آئی کیونکہ اس کے سامنے ایسے ممالک موجود تھے جنہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور اس کے نتائج بہت تباہ کن نکلے۔
14 مارچ کو آرڈرن نے سخت ترین سرحدی پابندیاں عائد کر دیں، اس وقت ملک میں کورونا کے صرف 6 کیس سامنے آئے تھے۔
19 مارچ کو ملک میں غیرملکیوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی گئی، اس وقت 28 مصدقہ مریض ملک میں موجود تھے۔
23 مارچ کو وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا، اس تاریخ تک مریضوں کی تعداد 102 ہو چکی تھی جبکہ کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔
2۔ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ
وزیراعظم آرڈرن نے منگل کے روز بتایا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب روزانہ 8 ہزار ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
اب تک نیوزی لینڈ میں ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد ٹیسٹ ہو چکے ہیں، برطانیہ کی آبادی 13 گنا زیادہ ہے اور وہاں پر اب تک 7 لاکھ 20 ہزار ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کا ٹیسٹ مثبت نکلنے کی شرح ایک فیصد ہے یعنی سو لوگوں میں سے 99 کے ٹیسٹ منفی آتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وائرس بڑے پیمانے پر نہیں پھیل ریا۔
3۔ سائنس پر انحصار
نیوزی لینڈ سے سیکھنے کا اصل سبق اچھی سائنس اور قیادت کا اشتراک ہے، لاک ڈاؤن کے دوران جسینڈا آرڈرن مسلسل پریس کانفرنس کرتی رہی ہیں، اس موقع پر بلوم فیلڈ ان کے ساتھ ہوتے تھے۔
اگرچہ بلوم فیلڈ ایک سرکاری افسر ہیں لیکن وہ پبلک ہیلتھ میڈیسن کے ماہر ہیں، انہوں نے اچھی سائنس کے پہلو کا احاطہ کیے رکھا جبکہ آرڈرن اچھی قیادت فراہم کرتی رہیں۔
مستقبل میں کیا ہو گا؟
اگرچہ نیوزی لینڈ کو کورونا کے خلاف فتح یاب ہونے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ اس فتحیابی کے بعد بھی زندگی نارمل کی طرف نہیں لوٹ رہی۔
ملک ابھی تک لاک ڈاؤن میں ہے، زیادہ تر لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
بھارت میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد پراسرار طور پر کم کیوں ہے؟
وزیر اعظم نے پیر کو کہا کہ لیول تھری کے لاک ڈاؤن کا مطلب کورونا سے پہلے والی زندگی کی طرف لوٹ جانا نہیں ہے، وہ دن بھی لوٹ آئے گا لیکن ابھی ایسا ممکن نہیں ہے۔
کورونا وبا کے باعث نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری سیاحت بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ غیرملکیوں کو ابھی تک ملک میں آنے کی اجازت نہیں ملی۔
نیوزی لینڈ کے جو شہری باہر سے آتے ہیں انہیں بھی 14 روز کے لیے حکومتی اداروں میں الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔
ایک سرکاری اندازے کے مطابق نیوزی لینڈ میں بیروزگاری کی شرح 13 فیصد تک جا سکتی ہے۔