15 سالہ طالبہ کا ریپ کرنے کی پاداش میں استاد کی سزا برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ ریپ کیسز میں خواتین افسران کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی جانی چاہیے۔
ٹرائل کورٹ نے قصور میں استاد عرفان علی شیر کو 2014 میں 15 سالہ طالبہ کا ریپ کرنے کی پاداش میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی، عدالت نے مجرم پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا کورونا کی وجہ سے رہائی پانیوالے قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم
کورونا وائرس سے نمٹنے کے ناکافی اقدامات، اٹلی سے آنے والا مسافر سپریم کورٹ پہنچ گیا
مجرم عرفان نے لاہور ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے سزا 14 سال سے کم کر کے 10 سال کر دی تھی، اب اس نے ایک مرتبہ پھر سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اپیل کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
جسٹس عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی ہے کہ زیادتی کے مقدمات کے متاثرین اور ان کے خاندان اپنی عزت کی وجہ سے کیس درج کرانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
جسٹس عیسیٰ نے قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت تحقیقات میں ریپ کیس کو ملزم سے جوڑنے کے لیے ڈی این اے کا فارنزک ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ متاثرہ طالبہ کا طبی معائنہ ریپ کے دو روز بعد کیا گیا اسی لیے سیمن کا پتہ نہیں چلا لہذا اسے لے کر فرانزک تجزیہ کے لیے نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔
جس خاتون ڈاکٹر نے طالبہ کا معائنہ کیا تھا اور میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (ایم ایل سی) تیار کیا تھا انہوں نے ریکارڈ کیا کہ ہائپریمیا موجود ہے اور تازہ خون بہنے کا ثبوت بھی موجود ہے اور یہ بھی کہ متاثرہ طالبہ کنواری نہیں رہی۔
مذکورہ خاتون ڈاکٹر نے اپنے تیار کردہ سرٹیفیکیٹ کے ٹھیک ہونے کی تصدیق کی جبکہ پراسیکیوشن جس نے معائنہ کیا گواہی دی کہ طالبہ کا ریپ استاد نے کیا ہے۔
فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ ملزم کے لیے سازگار کوئی چیز سامنے نہیں آسکی۔ متاثرہ لڑکی کو اپنے ہی استاد کو جھوٹے طور پراس گھناؤنے جرم کی وجہ سے نامزد کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی اور نہ ہی اسے اس سلسلے میں کوئی سوال اٹھایا گیا ہے۔
استغاثہ نے اس کی والدہ کا بھی معائنہ کیا اور ماضی میں اس قسم کی ایف آئی آر درج کرانے کے بارے میں تفتیش کی۔ معاملے کی تفتیش محمد مظفر نے کی اور اس نے بھی ماضی میں متاثرہ یا اسکےاس کے اہل خانہ سے اس طرح کے مقدمات درج کرنے سے متعلق کوئی سوال نہیں اٹھایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ متاثرہ لڑکی یا اس کی ماں نے مالی فائدہ اٹھانے یا بلیک میل کرنے کے لیے اس طرح کے جھوٹے مقدمات درج کرائے ہوں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ بھی ناقابل یقین ہے کہ ایک طالب علم اپنے استاد کو جھوٹے طریقے سے پھنسائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات لیڈی پولیس آفیسر کے ذریعہ نہیں بلکہ ایک پولیس اہلکار کے ذریعہ کی گئیں جو نامناسب تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ صدمہ یا شرمندگی سے بچنے کے لیے متاثرہ لڑکی کے کپڑے متاثرہ خاندان کی جانب سے تحقیقاتی افسر کے حوالے نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر کا فرض ہے کہ وہ متاثرہ سے کپڑے وصول کرے۔
سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ 29 اگست 2013 کو پنجاب پولیس کی انویسٹی گیشن برانچ نے صوبے کے تمام پولیس افسران کو عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایس او پی جاری کیے کہ خواتین کی عصمت دری کے معاملات کے سلسلے میں لیڈی پولیس افسران کے ذریعہ تحقیقات کی جانی چاہئے۔