لاہور سے تعلق رکھنے والے جلاد صابر مسیح کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں کو پھانسی دیتے ہوئے کوئی رحم نہیں آتا، یہ میرا خاندانی پیشہ ہے، میرے پڑدادا پہاڑی مسیح نے ہندوستان کی آذادی کے ہیرو بھگت سنگھ اور میرے دادا تارا مسیح نے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دی تھی۔
جلاد صابر مسیح نے یہ باتیں ایک مقامی یوٹیوب چینل کو انٹرویو کے دوران بتائیں۔
صابر مسیح نے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت دو جلاد پھانسی کے لیے موجود ہیں، ایک میں اور دوسرا نبیل مسیح ہے، پنجاب کی 15 جیلوں میں جہاں پھانسی گھاٹ ہیں، ہم دونوں مجرموں کو پھانسی دینے کے لیے جاتے ہیں۔
صابر مسیح نے بتایا کہ وہ جلاد کی نوکری 2007 سے کر رہے ہیں اور اب تک بےشمار لوگوں کو پھانسی دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پھانسی کے موقع پر کئی دفعہ پارٹیوں میں صلح ہو جاتی ہے اور مجرم پھانسی کے پھندے پر جھولنے سے چند گھنٹے قبل بچ جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ زینب کے قاتل ملزم عمران سمیت دہشت گرد ڈاکٹر عثمان، شیش نام چھوٹو اور صوبیدار حق نواز کو اڈیالہ جیل میں پھانسی پر لٹکا چکے ہیں جبکہ انا بٹ چونیاں والے کو انہوں نے گجرات جیل میں پھانسی دی تھی۔
جلاد صابر مسیح نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا کہ میری 14 سال کی نوکری میں ایک دفعہ مجرم کو وہاڑی کی جیل میں پھانسی گھاٹ پر منہ پر کپڑا ڈال کر رسہ اس کے گردن میں ڈالا تو اس کیس کی مدعی خاتون نے رسے کو ہلا کر مجرم سے پوچھا کہ کیسا لگ رہا ہے؟ میں تمھیں معاف کر دوں؟ اس کے بعد خاتون نے کہا جا تجھے معاف کیا تو اس مجرم کے گلے سے پھانسی کا پھندہ نکال کر آزاد کر دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب میں پھندہ مجرم کی گردن میں ڈال دیتا ہوں تو اسے کہتا ہو تم نے کوئی درود یا دعا پڑھنی ہے تو پڑھ لو۔
جلاد صابر مسیح نے انکشاف کیا کہ زینب قتل کے مجرم عمران کو جب پھانسی گھاٹ پر لایا گیا تو اس نے مجسٹریٹ اور جیل افسر سے کہا کہ میرے سے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے معاف کر دینا تو میں نے اس کو کہا تمھیں زینب کے والدین سے معافی مانگنی چاہے لیکن وہ خاموش رہا۔
مجرم کو پھانسی دینے سے پہلے اس کا وزن اور میڈیکل کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کے وزن کے مطابق پھٹا اور رسہ لگایا جاتا ہے، بعض اوقات پھانسی کے دوران رسہ ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن متبادل رسہ موجود ہونے کی وجہ سے پھانسی کا عمل نہیں رکتا۔
صابر مسیح جلاد نے بتایا کہ انہیں صرف 23 ہزار ماہانہ تنخواہ ملتی ہے جس سے گزارا مشکل ہے، پھانسی کے لیے کسی جیل سے بلاوا آتا ہے تو جیب سے خرچ کر کے جانا پڑتا ہے۔
صابر مسیح بھی محکمہ کے کلرکوں کی کرپشن کا شکار ہے کہتا ہے کہ ٹی اے ڈی اے کا بل پاس کرانے کے لیے کلرکوں کو خرچہ پانی دینا پڑتا ہے لیکن کچھ جیل افسران جیب سے کرایہ وغیرہ کے لیے ایک ہزار روپیہ دے دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کہ انگریز دور میں جب ان کے پڑدادا پہاڑی مسیح جلاد تھے تو ان کو 20 روپے تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2008 میں پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں آنے کے بعد 2013ء تک پھانسیوں کا سلسلہ بند رہا، جب 2013 میں نواز شریف حکومت آئی تو اس کے دو سال تک کسی کو پھانسی نہیں لگائی گئی تاہم سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد فوجی عدالتوں سے سزائیں ملنے پر ان مجرمان کو پھانسیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
جو بندہ جس کا جرم کرتا ہے معافی بهی اسی سے مانگے تو اچها ہوگا کیونکہ الللہ پاک نے فرمایا حقوق الللہ معاف ہونگے پر حقوالعباد نہیں