امریکہ میں کورونا مریضوں کو دی جانیوالے دوا ریمڈیسیویر کے استعمال سے مریض تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں ، یہ پہلی ثابت شدہ دوا ہے جس کا استعمال کورونا مریضوں کی صحتیابی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
ریمڈیسیویر تجرباتی دوائی ہے جو وائرس کے خلاف کام کرتی ہے، اسے امریکی دواساز کمپنی گلیڈ سائنسز نے تیار کیا تھا، یہ ایبولا بخار کے علاج کیلئے بنائی گئی تھی۔
اس دوا کے حوالے سے ابتدائی طور پر 2016ء میں تحقیق کے بعد کانگو میں اس کا ٹرائل کیا گیا جہاں دیگر تین ادویات کے مقابلہ میں اس کا موازنہ کیا گیا۔
کورونا کی ویکسین ستمبر تک تیار ہو جائے گی، برطانوی سائنسدان کا دعویٰ
کیا کرسمس سے قبل کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی؟
اس دواء پر تحقیق کا کام 2019ء میں اختتام پذیر ہوا جس کے ساتھ اسے بند کردیا گیا کیونکہ یہ جانیں بچانے میں اسقدر معاون ثابت نہیں ہو رہی تھی جتنا دو مونوکلونل اینٹی باڈی ادویات اپنا اثر دکھا رہی تھیں ۔
فروری میں امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن نے اعلان کیا کہ وہ اس دوا کا سارس کوو 2 کے علاج کے طور دوبارہ استعمال شروع کر رہے ہیں کیونکہ اس نے سارس اور مرز کے وائرس کے خلاف جانوروں میں اچھے نتائج دیے ہیں۔
این آئی اے آئی ڈی نے اعلان کیا کہ بدھ کے روز ایک ہزار کے قریب افراد پر اس دوا کے ٹرائل سے معلوم ہوا کہ سانس کی تکلیف کا شکار کوویڈ 19مریضوں پر بہتر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ریمڈیسیویر کا شمار ایسی ادویات میں ہوتا ہے جو براہ راست وائرس کیخلاف حملہ کرتی ہیں، یہ خاموشی سے وائرس کے جینز میں شامل ہوکر نئے وائرس کو جنم دینے کا عمل روک دیتی ہے اور جسم کے مدافعاتی نظام کو وائرس ختم کرنے میں بہت تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔
گیلیڈ کے چیف میڈیکل افسر مرداد پارسی نے بدھ کے روز بتایا کہ اگرچہ ایسے مریضوں میں اس دوا کے نتائج زیادہ مثبت رہے ہیں جن میں بیماری کی علامات تھوڑے وقت کے لیے ظاہر ہوئیں لیکن ان افراد کو بھی اس سے فائدہ پہنچا ہے جن کی حالت زیادہ خراب تھی۔
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
کورونا کی ویکسین غریب افریقیو ں پر آزمانے کی تجویز پر دنیا برہم
اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس کے خلاف قوت مدافعت ابنارمل انداز میں متحرک ہوتی ہے، جسے سائیوٹیکین کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے پھیپھڑے زخمی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وائرس کواپنی تعداد بڑھانے سے روک دینے کے باعث بیماری کی شدت کم ہو جاتی ہے، جس کا مطلب ایسے مریضوں کی تعداد میں کمی ہے جن کے پھیپھڑے زخمی ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگوں کو جلد ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا جا سکتا ہے۔