• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

قصہ ساڑھے چار درویش (حصہ سوئم)

by sohail
مئی 1, 2020
in کالم
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹر ظفر الطاف کے چار مرشد ان گرامی ڈاکٹر اجمل، ڈاکٹر طارق صدیقی, ایس۔کے محمود اور عبدالحفیظ کاردار کے چھوٹے موٹے قصے

 تیسری اور آخری قسط

یاد دہانی کے لیے جتا دیں کہ پہلی دو اقساط میں نصف دوریش کی زندگی سے جڑے ڈاکٹر اجمل، ڈاکٹر طار ق صد یقی اور ایس کے محمود نامی درویشوں کے قصے بیان ہوئے تھے۔ اس قسط میں ان کی زندگی سے جڑے ان کی پہلی محبت کرکٹ کے پاکستان میں سرخیل عبدالحفیظ کاردار کا بیان ہے۔

دنیا میں جو احترام اپنے اہل خانہ کے بعد ڈاکٹر صاحب کے ہاں کاردار صاحب کا دیکھا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں۔ ان کے آگے وہ بچھ بچھ جاتے تھے۔

 ایک باب میں وہ کاردار صاحب سمیت ان تمام افراد کا ذکر ایک شائستہ تمسخر سے کرتے تھے جو ان کی زندگی سے جڑے تھے۔ وہ تمسخر ان سب کا آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا تھا۔ یہ افراد ان کی بڑی ہمشیرہ ندرت الطاف، بھائی جاوید الطاف، کاردار صاحب اور ان کے دوست صدر پاکستان فاروق لغاری تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آکسفورڈ یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی سوچ میں کوئی Manufacturing Defect ہے جو انہیں بلاوجہ اڑیل اور خود پسند بنا دیتا ہے، بعد میں وہ اس میں بے نظیر اور عمران خان کو بھی شامل کر لیتے تھے۔

ایک سوال جو ہم نے بارہا پوچھا اور جس کا جواب انہیں دینے میں ہمیشہ ہی تامل رہا، وہ یہ تھا کہ ایک طویل عرصے تک کرکٹ کا کرتا دھرتا ہوتے ہوئے بھی کاردار صاحب نے آپ کو بطور ٹیسٹ کرکٹر کھیلنے کا موقع کیوں نہیں دیا؟ ہمارا سوال سن کر ان کی آنکھیں کچھ گلاسی اور نم آلود سی ہوجاتی تھیں۔ ضبط بہت تھا، چہرہ بھی جذبات کے اظہار کے معاملے میں غیر معاون ہوتا تھا۔ ہم پھر بھی جان جاتے کہ جیسے آنکھیں ساحر لدھیانوی کے الفاظ میں جتا رہی ہوں کہ

مشکل ہو عرض حال تو ہم کیا جواب دیں

کہنے سے ہو ملال تو ہم کیا جواب دیں

تم کو نہ ہو خیال تو ہم کیا جواب دیں

ظفر الطاف بطور مڈل آرڈر بیٹسمن فرسٹ کلاس کرکٹ سے چودہ برس یعنی 1958 سے 1972 تک وابستہ رہے۔ کاردار صاحب 1958 میں پاکستان کی کپتانی چھوڑ بیٹھے تھے اور ان کی جگہ فضل محمود، امتیاز اور ایک سیریز کے لیے جاوید برکی کپتان بن چکے تھے۔ اس کے بعد حینف محمد کپتان بنے جو 1963 سے چار سال تک کپتان رہے۔ کاردار صاحب چاہتے تو 1958۔1967 کے عرصے میں ڈاکٹر صاحب کو بطور ٹیسٹ کھلاڑی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ حنیف محمد اور ڈاکٹر صاحب کی آپس میں بالکل نہیں بنتی تھی۔ وہ بھلے سے پاکستان کے کپتان ہوں مگر صدر کے پرنسپل سیکرٹری فدا حسین بورڈ کے چیئرمین تھے اور کاردار صاحب بھی ان سے بہت قریب تھے، سب سے بڑھ کر خود ڈاکٹر صاحب نے سول سروس جوائن کرلی تھی اور وہ جاوید برکی سے بہت بہتر کھلاڑی تھے جو سن ساٹھ سے مسلسل نو برس کرکٹ کھیلتے رہے۔

ہمارا موضوع اس وقت ڈاکٹر صاحب نہیں کاردار صاحب ہیں سو اس ذکر کو یہیں چھوڑدیں۔

کاردار صاحب بہت کمال کے انسا ن تھے۔ جب وہ ڈاکٹر صاحب کی اسلام آباد کی ایف ۔ 8 والی رہائش گاہ پر آتے تو رات انہی کے پاس قیام رہتا تھا۔ ہمارا کمرہ ساتھ ہی ہوتا تھا۔ جب بھی آتے، ہر وقت نفیس تھری پیس سوٹ میں ملبوس ہوتے۔ جیبی گھڑی جو اشرافیہ کی علامت ہوتی تھی، عمر باون برس کی تھی مگر جوانوں کی سی طاقت اور پھرتی۔ بہت وجیہہ اور دلیر۔ اپنی بوتل خود ساتھ لاتے ۔tippler (شام کو ایک دو جام لنڈھانے والے) کہہ لیں۔ ڈاکٹر صاحب کے ہاں شراب نہیں پیش کی جاتی تھی۔ کاردار صاجب کی اصول پرستی بہت اعلی معیار کی تھی۔

انگریزی کمال کی اورپنجابی اس سے بھی ودیا بولتے تھے۔ ان کی آمد کا سنتے تو کبھی کبھار ڈاکٹر طارق صدیقی، ڈاکٹر اجمل اور ایس کے محمود بھی آ جاتے تھے۔ ہمیں جب لگتا کہ مہمانوں میں ہیوی ویٹس زیادہ ہو گئے ہیں تو ہم چپکے سے نکل جاتے تھے۔ ایم این اے ہاسٹل میں ہمارا بیچ میٹ میاں یونس، جمیل اکبراور ٹھٹھہ شاہ محمد جھنگ کی چن جی منتظر ہوتی۔ ساڑھے دس بجے واپسی ہوتی تو یہ کاردار صاحب کے سونے کا وقت ہوتا۔ رات کے پچھلے پہر آنکھ کھلتی تو کمرے کا دروازہ کھلا ہوتا اور جانماز پر کاردار صاحب کی گریہ زاری جاری ہوتی۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب چائے کی ٹرے لے کر آ جاتے اور گفتگو کا دریا بہہ نکلتا۔ کاردار صاحب کو کرکٹ کی بہت سمجھ تھی مگر پنجابی کلچر، مقامی خاندانوں اور زراعت پر بھی ان کی معلومات بہت کمال ہوتی تھیں۔ بنگالیوں کے ہاں بھی ان کے فدائین کی بہت بڑی تعداد تھی۔ شیخ مجیب الرحمن بھی ان کے مداح تھے۔ ان کی موجودگی میں مجال ہے کبھی بیٹھ جائیں۔ نیت ہوتی تو شیخ مجیب کو عبدالحفیظ کاردار تنہا بہت سے انتہا پسند اقدامات سے باز رکھ سکتے تھے مگر مشرقی پاکستان کو توڑنے والے مغربی پاکستان میں تلے بیٹھے تھے۔

کرکٹ کے حوالے سے ان کے بارے میں خاصا مواد موجود ہے۔ اس پر ہم بات نہیں کریں گے مگر چند ایسے حوالے بیان کیے دیتے ہیں جو ہم نے صرف ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنے ان کا ذکر شاید آپ کو دل چسپ لگے۔

ڈاکٹر صاحب ایک برفیلی شام کا اکثر ذکر کرتے تھے کہ ایم سی سی کی میٹنگ جاری تھی بحث نے طول پکڑا۔ میٹنگ معمول سے زیادہ لمبی ہوگئی تو کاردار صاحب کئی دفعہ باہر آئے۔ ڈاکٹر صاحب اس اثنا میں کہیں ادھر اُدھر ہو گئے تھے ۔ انہیں بلا کر ڈانٹا اور کہا کہ وہ جو خاتون رولس رائس میں آئی ہیں ان کو جا کر کمپنی دیں۔ سامنے پب میں جا کر انتظار کریں۔

اس ٹیسٹ کا جس کا پاکستان میں بہت ذکر ہے جس کے ہیرو فضل محمود نے 99 رنز دے کر12 وکٹیں لی تھیں اس کے اختتام پر جب اگلے دن کاردار صاحب کو میڈیا ڈھونڈنے نکلا تو موصوف پورے انگلینڈ میں کہیں نہ ملے۔ ان کے سالے ذوالفقار احمد کو بھی پتہ نہ تھا کہ کاردار صاحب کہاں ہیں۔

شہزادی پروین سے ان کی تین برس قبل شادی ہوئی تھی۔ ایک لارڈ Cyril Hastilow بھی اپنی صاحبزادی ہیلن کو ڈھونڈتے پھرتے تھے۔ پتہ چلا کہ یہ جوڑا قاہرہ میں بطور دولہا دولہن موجود ہے۔ واپسی ہوئی تو پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں اچھی خاصی ہاتھا پائی ہوئی تھی۔

ہم نے اوپر بہت سرسری طور پر ان کی اصول پرستی اور خود داری کا ذکر کیا ہے۔

شاہد کاردار جب آکسفورڈ میں تھے تو مرحلہ یہ آ گیا کہ شاہد کاردار آکسفورڈ کی ٹیم میں کھیلیں۔ کاردار صاحب ان دنوں چیئرمین بی سی سی پی (موجودہ پی سی بی) تھے اور ڈاکٹر صاحب ان کے سیکرٹری۔ انہوں نے صاحبزادے کے سامنے شرط رکھی کہ وہ کھیلیں گے تو کاردار صاحب بورڈ سے استعفی دے دیتے ہیں۔ بیٹے نے والد محترم کی بات مانی۔ کاردار صاحب کی حمیت یہ گوارا نہ کرتی تھی کہ کوئی کہے کہ باپ کی وجہ سے بیٹے کو کرکٹ میں لفٹ ملی ہوئی ہے۔

کاردار صاحب نے کبھی بورڈ سے بطور معاوضہ کوئی پیسہ پائی نہیں لیا۔ سفر بھی اپنی جیب سے کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بھی بورڈ سے کوئی تنخواہ نہ لیتے تھے۔ دبئی جب کرکٹ کا مرکز بنا اور جوا اور جنس عام ہو گئے تو اس کے منتظم اعلی عبدالرحمن بخاطر نے کاردار صاحب کو بہت مدعو کرنا چاہا مگر وہ رضامند نہ ہوئے۔ کاردار صاحب کا ایک جواب ہوتا تھا

Mr.Bukhatir I have always played for testimonials never for money

پی سی بی کی بنیاد کے اولیں برس یعنی سن پچاس میں تو کاردار صاحب کی ڈیوٹی لگ گئی کہ وہ ایک ٹیم جوڑیں اور ایسی عمدہ ٹیم جوڑی کہ وہ اپنے چھ برسوں میں تقریباً ہر ٹیم سے میچ جیت چکی تھی ماسوائے جنوبی افریقہ کے جو نسل پرستی کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ سے باہر تھی۔

کاردار صاحب جب چیئرمن بن گئے تو انگلستان کے دورے میں انہیں علم ہوا کہ ٹیم میں ایک پستہ قد جواں عزم کھلاڑی ایسا بھی ہے کہ میچ شروع ہونے سے پہلے جب ملکہ برطانیہ گراؤنڈ پر تشریف لائیں گی تو وہ انہیں رات کو ڈیٹ پر لے جانے کی پیشکش کرے گا۔ انگریزی میں لڑکی کو ڈیٹ پر لے جانے کے لیے کیا کہا جاتا ہے، اس کی پریکٹس پوچھ پوچھ جاری تھی۔ سسرا سب سے کہتا پھرتا تھا کہ ایک دفعہ میرے ساتھ ڈیٹ پر چلی گئی تو پرنس فلپ کو چھوڑ کر مجھ سے شادی کرلے گی۔ I am irresistible

کاردار صاحب نے حکم دیا کہ کپتان امتیاز احمد ملکہ کی موجودگی کے دوران اس کھلاڑی کو گراؤنڈ پر نہ لائیں۔ ٹاس جیتنے کی صورت میں چونکہ یہ اوپنر نہیں لہذا اسے بعد میں لایا جائے اور فیلڈنگ کی صورت میں بارہویں کھلاڑی سے فرسٹ سیشن میں کام چلایا جائے۔ کچھ کھلاڑی چونکہ دوران تعارف چھچورپن کا مظاہرہ کرتے ہیں لہذا ملکہ برطانیہ کے ساتھ جو افسر ہوتا ہے وہ ان کی سیکریٹ سروس کا اور پنجابی اور اردو زبان کا ماہر ہوتا ہے۔ ان کی بکواس کو وہاں بہت بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب تو خیر کہتے ہی تھے مگر ہم نے بھی دیکھا کہ کاردار صاحب میں کھلاڑیوں کو چننے کا عجب گر تھا۔ ایک دن حکم ہوا کہ جاؤ گھر سے قدافی اسٹیڈیم کاردار صاحب کو لاؤ۔ طے یہ ہوا تھا کہ ٹیم کو دو تین اچھے بیٹسمن درکار تھے۔ کاردار صاحب بمشکل راضی ہوئے تھے کہ وہ ہر بیٹس من کو دو گیند کھیلتا دیکھیں گے۔ عارف عباسی اور جاوید برکی بھی موجود تھے۔ لسٹ پکڑ کر بیٹھ گئے۔ تیس لڑکوں کے ٹرائل کے بعد اعلان کیا کہ ان میں صرف ڈیڑھ عدد بیٹسمن ہیں باقی سب ڈنگ ٹپاؤ ہیں۔ جو ڈیڑھ بیٹسمن منتخب ہوئے اس میں ایک تو عامر سہیل تھے اور دوسرے نصف شاہد انور(سعید انور نہیں)۔

 پاکستان کے ایک اوپنر علیم الدین کو ٹیم میں لیا تو وہ کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے لوڈر تھے، انتخاب عالم کو منتخب کیا تو وہ محض سترہ برس کے تھے۔ اپنے اسکول کی ٹیم کے لیے کھیلا کرتے تھے، سن 1959 کے سرما میں کاردار صاحب نے بلا بھیجا۔ پوچھا آج کل اسکول کی ٹیم کا کوئی میچ تو نہیں چل رہا۔ جواب ملا نہیں تو پھر کل تم ہماری ٹیم کے لیے کھیلو۔ ٹیسٹ میچ کا آغاز ہوا تو روایتی فاسٹ بالر کے بجائے کپتان فضل محمود نے کاردار صاحب کے مشورے پر خود اوور نہیں کرایا بلکہ انتخاب عالم کو اوور دیا اور پہلی ہی گیند پر ان کے شہرہ آفاق اوپنر C.C. McDonald آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

اسی طرح جاوید میاں داد کو دیکھنے میر پور خاص پہنچ گئے تھے۔ سن رکھا تھا کہ غریب ہے مگر Gutsy ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو کہہ کر انہیں لالن پالن کے طور پر دو عدد ٹکٹوں کی رقم دی جاتی تھیں۔

 اب جب رفتگاں کی اس فہرست پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دور کہیں ہمارے کان میں بھی کیفی اعظمی کے وہ بول گونجتے ہیں

 دیکھی زمانے کی یاری

بچھڑے سبھی باری باری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔

sohail

sohail

Next Post

جلاد صابر مسیح اور معصوم زینب کے قاتل عمران کے آخری لمحات

امریکی کمپنی کی دوائی جس سے کورونا کے مریض تیزی سے صحتیاب ہونے لگے

عرفان خان کی اہلیہ کے اپنے مرحوم شوہر کے لیے دل کو چھو لینے والے الفاظ

سپریم کورٹ: 15 سالہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کے مجرم استاد کی سزا برقرار

فردوس عاشق اعوان نے مشیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹائے جانے کی اصل کہانی بتا دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In