عالمی ادارہ صحت کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر کیلئے تیاری رکھیں کیونکہ جب تک ویکسین نہیں تیار ہو جاتی، خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے یورپ کیلئے سربراہ ڈاکٹر ہنس کلوج نے کہا ہے کہ کورونا وبا دنیا کے صحت کے بہترین نظام کو بھی تیزی سے اپنے بوجھ تلے دبانے اور تباہ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی ایجنڈے میں سرفہرست ہونا چاہئے۔
یورپ، امریکہ کے بعد کورونا وائرس نے روس اور برازیل کا رخ کر لیا
بھارت میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد پراسرار طور پر کم کیوں ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وبا میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ صحت معیشت کا ڈرائیور ہے، صحت کے بغیر کوئی معیشت نہیں ہوتی اور صحت کے بغیر کسی قسم کی قومی سیکیورٹی نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر ہنس کلوج نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں کے بعد جب ہم اس وبا سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے تب ہمیں اس سے سیکھے گئے سبق کو نہیں بھلانا چاہئے۔
یورپ میں کئی ممالک کی جانب سے کورونا سے ہونیوالی اموات میں کمی کے بعد وبا پر قابو کا پھیلاؤ روکنے کیلئے عائد پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے یورپ کیلئے سربراہ نے اس کی مستقبل کی ممکنہ تباہ کاریوں سے دنیا کو خبردار کیا ہے۔
ڈاکٹر کلوج نے کہا ہے کہ کورونا کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ویکسین کے بغیر ہمیں دوسرے مرحلہ کیلئے تیاری کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کے 46 فیصد کیسز کا تعلق یورپ سے ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں کورونا سے ہونیوالی اموات کا 63 فیصد یورپ میں واقع ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم کورونا کیسز میں کمی دیکھ رہے ہیں تاہم ہمیں اس صورتحال کی بہت قریب سے نگرانی کرنی چاہیے۔
کورونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟
دنیا کے 9 امیر ترین لوگ جن کی دولت میں کورونا وبا کے دوران مزید اضافہ ہو گیا
دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 33لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس سے اب تک دو لاکھ 34 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔