سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پی ٹی آئی کے دھرنے کے متعلق بتایا کہ وہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے پولیس کو ادھر ادھر کر دیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مظاہرین سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور انہوں نے پولیس کو ہٹا کر وزارتوں کی جانب جانے والے رستے پر قبضہ کر لیا۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ان مظاہرین نے وزارتوں سے نکلنے والی گاڑیوں کی تلاشی لینا شروع کر دی، میں اور سیکرٹری آفس میں ہی بیٹھے رہے، رات آٹھ بجے کے قریب پارکنگ لاٹ سے ہوتے ہوئے جنگل سے گزرے اور دس فٹ کی دیوار پھلانگی۔
مریم نواز اب شاہد خاقان عباسی کو ن لیگ کا صدر بنانا چاہتی ہیں، شیخ رشید
پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آ گیا، ہوشربا انکشافات
انہوں نے کہا کہ اگر ہم سامنے کے راستے سے جاتے تو ممکن تھا مظاہرین تلاشی لیتے۔ ہم نے سوچا کہیں کوئی بے عزتی نہ کر دیں یا کوئی اور معاملہ نہ ہو جائے، اس لیے ہم پیچھے سے نکلے۔ آدھا میل پیدل سفر کیا پھر گاڑی منگوائی اور گھر گئے۔
شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا گیا کہ شجاع نوازکی کتاب آپ کی نظروں سے گزری ہے جس میں دھرنے کی کہانی لکھی گئی ہے؟ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
انہوں نے گول مول جواب دینے کی کوشش کی کہ انہیں یاد نہیں کہ کیا لکھا ہے مگر دھرنے کے حوالے سے ایک دو پیرے لکھے ہیں، جس پر اینکر ندیم ملک نے کہا کہ براہ راست جنرل ظہیرالاسلام کا نام لیا گیا ہے جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے پوری حقیقت تو معلوم نہیں مگر دکھائی دیتا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کا دھرنا نہیں تھا۔
شاہد خاقان عباسی سے کہا گیا کہ آپ کے پاس حقیقت ہو گی کیونکہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں جنرل راحیل شریف کو کچھ آڈیو ٹیپ اور کچھ باتیں بتائی گئی تھیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں کسی ایسی میٹنگ میں موجود تھا نہ ہی مجھے علم ہے لیکن حقائق بڑے واضح تھے کہ وہ دھرنا کسی سیاسی جماعت کا نہیں تھا۔
شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا گیا کہ اس دھرنے کے پیچھے کون تھا توانہوں نے کہا کہ کسی پر الزام لگانا مناسب نہیں ہے، جنرل (ر) ظہیر الاسلام ان کے تیس سال سے واقف کار ہیں اور ان کے والد کے ساتھ خاندانی روابط گزشتہ پچاس سال سے قائم ہیں۔
ندیم ملک نے انہیں کہا کہ آپ اسی رواداری کی وجہ سے مکمل بات نہیں بتا رہے۔ آپ کو پوری بات کا پتا ہو گا۔ آپ کی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا مکمل علم تھا۔
اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے دیوار پھلانگنے والا پورا واقعہ تو مکمل سنایا مگر کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے دور حکومت میں جب فیض آباد کا دھرنا ہوا تو پنڈی کی لوکل انتظامیہ مفلوج تھی اور کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
سابق وزیراعظم کے مطابق انتظامیہ نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہم معذرت چاہتے ہیں۔ ڈی آئی جی کے پاس تیس ہزار آدمی تھے مگر انہوں نے معذرت کر لی تھی۔
ان سے وجہ پوچھی گئی تو شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ بات آپ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا؟
اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے وجوہات جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ وجوہات جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ سب معاملات تھے، ہوتے رہے ہیں اور شاید ہوتے رہیں گے۔ یہ باتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ آپ نے اپنی متعین سمت پر چلنا اور ملک کو چلانا ہوتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ دھرنے والوں کو کون لایا تھا، کون کھانے کھلاتا رہا ہے، سی سی ٹی وی کی تاریں کس نے کاٹی تھیں، اس بات کو رہنے دیتا ہوں۔
(شاہد خاقان عباسی نے یہ گفتگو سما ٹی وی پر ندیم ملک کے پروگرام ”لائیو ود ندیم ملک“ میں کی ہے)